پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳
پیغمبر اسلام کا کردار
طائف کی وہ شام بھی کس قدر بھیانک تھی جب شہر کے لڑکے پیغمبر اسلام لی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار مار کر شہر سے باہرلے جارہے تھے۔ آپ مکہ سے پچاس میل کا پیدل سفر طے کر کے حجاز کے رئیسوں کے گرمائی در مقام پہنچے تھے تاکہ انھیں دینِ اسلام کی دعوت دیں۔ مگر طائف کے رئیسوں نے آپ کے خیر خواہانہ پیغام کو سننے کے بجائے شہر کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگادیا۔ یہ شریر لڑکے اس وقت تک آپ کا پیچھا کرتے رہے جب تک سورج نہ غروب ہو کر آپ کے اور ان لڑکوں کے درمیان تاریکی کا پروہ نہ ڈال دیا۔ آپ کا جسم زخموں سے چور تھا۔ سر سے پاؤں تک آپ خون میں نہائے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے تھک کر انگور کے ایک باغ میں پناہ لی۔ غور کیجئے ۔ کسی آدمی کے لئے کتنا نازک وقت ہوتا ہے۔ آپ نے خود ایک بار اپنی بیوی حضرت عائشہ رضہ سے فرمایا کہ طائف کی یہ شام میری زندگی کی سخت ترین شام تھی۔ مگر آپ کی زبان سے اس انتہائی سنگین موقع پر اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی برا کلمہ نہیں نکلا، بلکہ آپ نے فرمایا، ’’خدایا! ان کو صحیح راستہ دکھا، کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں‘‘، اللہ کے رسول کا کیسی اخلاق تھا جس نے آپ کے دشمنوں کو اس طرح زیر کیا کہ سارے عرب نے آپ کے پیغام کو قبول کر لیا۔ آپ کے اعلیٰ کردار کے آگے کوئی تعصب، کوئی عداوت اور کوئی ہٹ دھرمی نہ ٹک سکی، آپ کی بلند سیرت لوگوں کو جادو کی طرح مسخر کرتی چلی گئی۔
ایک بار آپ نے فرمایا: صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ تم صلہ رحم کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ بلکہ صلہ رحمی یہ ہے کہ جو قطع رحم کرے اس کے ساتھ تم صلہ رحم کرو (بخاری، کتاب الادب)، تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار اسلام کے کچھ دشمنوں نے حضرت عائشہ رضہ پر بدکاری کی تہمت لگائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور حضرت ابو بکر رضہ کی صاحبزادی تھیں۔ یہ تہمت سراسر جھوٹ اور بے بنیاد تھی۔ اس فرضی داستان کو گھڑنے اور اس کو پھیلانے میں ایک شخص مسطح نام کا بھی شریک تھا۔ یہ شخص حضرت ابو بکر رضہ کا رشتہ دار تھا۔ اس کو ضرورت مند سمجھ کر حضرت ابو بکر رضہ اس کو ماہانہ کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر رضہ کو معلوم ہوا کہ ان کی معصوم صاحبزادی پر جھوٹی تہمت لگانے میں مسطح بھی شریک رہا ہے تو انھوں نے مسطح کی امدادی رقم بند کر دی۔ اس پر اللہ کے رسول ص کے پاس یہ وحی آئی کہ اگر کوئی شخص معاشی اعتبار سے ضرورت مند ہے تو اس کے اخلاقی جرم کی وجہ سے اس کی مالی امداد بند نہ کرو۔ بلکہ اس کے جرم سے در گزر کرتے ہوئے اس کی معاشی امداد کو جاری رکھو۔ تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور کش کش والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، محتاجوں اور اللہ کی راہ میں وطن چھوڑنے والوں کی مدد نہ کریں گے۔ ان کو معاف کر دینا چاہئے اور درگزر کرنا چاہئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کر دے اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے (نور22) حضرت ابو بکر رضہ ہی کا واقعہ ہے کہ ایک بار دہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر آپ کو برا بھلا کہا۔ حضرت ابو بکر رضہ پہلی بار سن کر چپ رہے۔ اس نے دوسری بار برا بھلا کہا تو اس وقت بھی آپ چپ رہے۔ مگر جب اس نے تیسری بار بد زبانی کی تو آپ خاموش نہ رہ سکے اور جواب میں بول اٹھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ص فوراً وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت رسال جون ۱۹۸۰
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues