پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶
تذکیر القرآن النساء ۴ تم لوگوں نے دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے جھگڑا کرلیا۔ مگر قیامت کے دن کون ان کے بدلے اللہ سے جھگڑا کرے گا یا کون ہو گا ان کا کام بنانے والا۔ اور جس کو شخص برائی کرے یا اپنے آپ پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پائے گا۔ اور جو شخص کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اپنے ہی حق میں کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور جو شخص کوئی غلطی یا گناہ کرے پھر اس کی تہمت کسی بے گناہ پر لگا دے تو اس نے ایک بڑا بہتان اور کھلا ہوا گناہ اپنے سرلے لیا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو یہ ٹھان ہی لیا تھا کہ تم کو بہکا کر رہے گا۔ حالانکہ وہ اپنے آپ کو بہکا رہے ہیں۔ وہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جو تم نہیں جانتے تھے اور اللہ کا فضل ہے تم پر بہت بڑا ١٣-١٠٩ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطی ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملے میں بھی۔ جب کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے، وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کر دے اور آئندہ کے لئے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ جو شخص اس طرح اللہ کی پناہ چاہتا ہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کر کے اس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تووہ غلطی کو ماننے کے لئے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کر رہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کر رہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔ ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہو رہی ہیں، وہ تدبیر کر کے اس کام کو بند کرا دے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سرڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو نہ کہ بحث کر کے اپنے کو صحیح ثابت کرو کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues