Al-Risala · June 1980 · page 25

پیغمبر اسلام کا کردار

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵

بے شک ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف حق کے ساتھ اتاری ہے تا کہ تم لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو دکھایا ہے ۔ اور بد دیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے بنو۔ اور اللہ سے بخشش مانگو ۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور تم ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں۔ اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو خیانت والا اور گنہگار ہو۔ وہ آدمیوں سے شرماتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے ، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اس بات کی جس سے اللہ راضی نہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ۱۰۵ – ۱۰۸ انسان کی یہ ضرورت ہے کہ وہ مل جل کر رہے۔ یہی ضرورت قوم یا گروہ کو وجود میں لاتی ہے۔ اجتماعیت سے وابستہ ہو کر ایک آدمی اپنی طاقت کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کر لیتا ہے۔ مگر دوسرے دھڑے سے ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز اجتماعی ضرورت کے طور پر بنی تھی وہ اجتماعی مذہب کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ وہ بذاتِ خود لوگوں کا مقصود بن جاتی ہے۔ اب یہ ذہن بن جاتا ہے کہ "میرا گروہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط، میری قوم خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر" اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا حلقہ اہم دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حلقہ غیر اہم۔ اپنے حلقہ کا آدمی اگر باطل پر ہے تب بھی اس کی حمایت ضروری سمجھی جاتی ہے اور دوسرے حلقہ کا آدمی اگر حق پر ہے تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیا جاتا۔

کسی گروہ میں یہ ذہن بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی گردی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کو معیار کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہدایت کو معیار کا درجہ دے اور اس کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرے نہ کہ دنیوی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کے تحت ۔ ایک آدمی غلطی کرے تو اس کا ساتھ پکڑا جائے خواہ وہ اپنا ہو۔ ایک آدمی صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ نہ دیا جائے خواہ وہ کوئی غیر ہو۔ حتی کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق اپنا ہو اور ایک فریق باہر کا، تب بھی معاملے کو اپنے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ حق اور ناحق کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر دوسری چیز کی پروا کئے بغیر اپنے کو حق کی جانب کھڑا کیا جائے ۔

سچائی کو چھوڑنا خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کر چکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہر سینہ کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ یہ انسان کا ضمیر ہے۔ جب بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اندر کا چھپا ہوا نمائندہ حق اس کو ٹوکتا ہے۔ اس اندرونی آواز کو آدمی دباتا ہے اور اس کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے راستہ کو چھوڑے اور بے انصافی کے راستہ پر چل پڑے۔ مزید یہ کہ آدمی جب ناحق میں کسی کا ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان کا لحاظ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیوی تعلقات اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ ایک شخص کو نظر انداز نہیں کر پاتا اس لئے وہ اس کو غلط جانتے ہوئے اس کا ساتھ بھی بن جاتا ہے۔ مگر نا حق کے باوجود ایک شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خدا کو چھوڑ دے۔ عین اس وقت جب کہ وہ دنیا میں ایک شخص کا ساتھ دیتا ہے، آخرت میں وہ خدا کے ہاتھ سے محروم ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page