Al-Risala · June 1980 · page 28

پیغمبر اسلام کا کردار

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن النساء ۴ بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا گنا ہوں کو بخش دے گا جس کے لئے چاہے۔ اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ بہک کر بہت اور جا پڑا ۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں دیویوں کو اور وہ پکارتے ہیں سرکش شیطان کو۔ اس پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اور شیطان نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا۔ میں ان کو بہکاؤں گا اور ان کو امیدیں دلاؤں گا اور ان کو سمجھاؤں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور ان کو سمجھاؤں گا تو وہ اللہ کی بناوٹ کو بدلیں گے اور جو شخص اللہ کے سوا شیطان کو اپنا دوست بنائے تو وہ کھلے ہوئے نقصان میں پڑ گیا۔ وہ ان کو وعدہ دیتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے اور شیطان کے تمام وعدے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا ۱۱۶- 116-122 جو شخص ایک اللہ کو پکڑلے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہو جاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ تلپٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔

اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وہ اتنا ہی کر سکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے، دور فرضی تمنّاؤں میں الجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک توہم پرستی۔ اور دوسرے خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کر لی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی چیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کر لینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہو جائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے ۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی تو جہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کر دیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طور پر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقہ سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہئے، اس نقشہ کو پلٹ کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page