پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹
نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔ اور وہ نہ پائے گا اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ مددگار۔ اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشر طیکہ وہ مومن ہو۔ تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہو گا ۔ اور اس سے بہتر کس کا دین ہے جو اپنا چہرہ اللہ کی طرف جھکا دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو۔ اور وہ چلے دین ابراہیم پر جو ایک طرف کا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔ اور اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے (۱۲۳ - ۱۲۶)
خدا اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ خدا اور آخرت کا انکار کر کے ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے معاملے کورسی عقیدہ کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں اور عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کی عزت اور دنیا کے فائدہ کو سمیٹنے کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کو پانے کے لئے ان کے نزدیک مکمل جد و جہد ضروری ہوتی ہے۔ مگر آخرت کی کامیابی کو پانے کے لئے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی بزرگ کی سفارش ، کسی بڑے گروہ سے وابستگی ، کچھ پاک کلمات کا ورد ، بس اس قسم کے سستے اعمال سے یہ امید قائم کرلی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائیں گے اور اس کو جنت کے پر بہار باغوں میں داخل کریں گے۔ مگر اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو ، وہ کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں ۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر ۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہو گا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ کے قانون عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔ اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔ اس کی ایک تاریخی مثال ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ یہ وہ بندے ہیں جو دنیا میں اللہ کے مومن بن کر رہیں۔ جو اپنے آپ کو ہم تن اپنے رب کی طرف یکسو کر لیں۔ جو اپنی وفاداریاں پوری طرح اللہ کے لئے خاص کر دیں۔ انھوں نے دنیا میں اپنے معاملات کو اس طرح قائم کیا ہو کہ وہ ظلم اور سرکشی سے دور رہنے والے اور عدل اور تواضع کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہوں ۔ چہرہ آدمی کے پورے وجود کا نمائندہ ہے۔ چہرہ خدا کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو خدا کی طرف پھیر دے۔ اللہ تمام کائنات کا مالک ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ نے اپنے کو غیب کے پردہ میں چھپایا باہے۔ دنیا میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اسی لئے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی خدا کو نہیں دیکھتا ، وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں آزاد ہوں جو چاہوں کروں ۔ اگر آدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues