پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
اور لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں حکم پوچھتے ہیں۔ کہہ دو اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور وہ آیات بھی جو تمہیں کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن کو تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لئے لکھا گیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان کو نکاح میں لے آؤ۔ اور جو آیات کمزور بچوں کے بارے میں ہیں، اور یتیموں کے ساتھ انصاف کرو اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے۔ اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔ اور تم ہرگز عورتوں کو برابر نہیں رکھ سکتے اگرچہ تم ایسا کرنا چاہو۔ پس بالکل ایک ہی طرف نہ جھک پڑو کہ دوسری کو لٹکی ہوئی کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کرلو اور ڈر و تواللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر دونوں جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے احتیاج کردے گا اور اللہ بڑی وسعت والا حکمت والا ہے۔ - ۱۲۷ پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر و انصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری نفعین کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس لئے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔ میاں بیوی یا دآدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ کئے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ کو پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ اس کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ زحمت کو درنگر کر کے کچھ کرے گا اس کے پردہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا اس کی رسائی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues