پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲
تذکیر القرآن النساء ۴ اے ایمان والو، انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ تمہارے یا تمہارے ماں باپ یا عزیزوں کے خلاف ہو۔ اگر کوئی مال دار ہے یا محتاج تو اللہ تم سے زیادہ دونوں کا خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہش کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم کجی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے ۱۳۵ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے ایسا معاملہ آتا ہے جس میں ایک راستہ اپنے مفاد اور خواہش کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اور انصاف کا۔ جو لوگ اللہ کی طرف سے غافل ہوتے ہیں، جن کو یقین نہیں ہوتا کہ اللہ ہر وقت ان کو دیکھ رہا ہے وہ ایسے مواقع پر اپنی خواہش کے رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ اس کو کامیابی سمجھتے ہیں کہ حق کی پروا نہ کریں اور معاملہ کو اپنے مفاد اور اپنی مصلحت کے مطابق طے کریں۔ مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جو اللہ کو اپ نگراں بنائے ہوئے ہیں وہ تمام تر انصاف کے پہلو کو دیکھتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو حق و انصاف کا تقاضا ہو۔ ان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ ان کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ انھوں نے کسی کے ساتھ بے انصافی نہ کی ہو، وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر قسط اور عدل پر قائم کئے ہوئے ہوں ۔
ان کی انصاف پسندی کا یہ جذبہ اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ ان کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ انصاف سے ہٹا ہوا کوئی رویہ دیکھیں اور اس کو برداشت کر لیں۔ جب بھی ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہو تو وہ ایسے موقع پر حق کا اعلان کرنے سے باز نہیں رہتے ۔ اگر انصاف کا اعلان کرنے میں ان کے قریبی تعلق والوں پر زد پڑتی ہو یا ان کی اپنی مصلحتیں مجروح ہوتی ہوں تب بھی وہ وہی کہتے ہیں جو انصاف کی رو سے انہیں کہنا چاہئے۔ ان کی زبان کھلتی ہے تو اللہ کے لئے کھلتی ہے نہ کہ کسی اور چیز کے لئے ۔ اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ صاحب معاملہ طاقت ور ہو تو اس کو اس کا حق دیا جائے اور اگر صاحب معاملہ کمزور ہو تو اس کا حق اس کو نہ دیا جائے ۔ مومن وہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ انصاف کرے خواہ وہ زور آور ہو یا کم زور۔ جب کوئی آدمی نا انصافی کا ساتھ دے تو وہ یہ کہہ کر ایسا نہیں کرتا کہ میں نا انصافی کرنے والے کا ساتھی ہوں۔ بلکہ وہ اپنی نا انصافی کو انصاف کا رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے ۔ ایسے موقع پر ہر آدمی دو میں سے کوئی ایک رویہ اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ یہ کرتا ہے کہ بات کو بدل دیتا ہے۔ وہ معاملہ کی نوعیت کو ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جس سے ظاہر ہو کہ یہ نا انصافی کا معاملہ نہیں بلکہ عین انصاف کا معاملہ ہے، جس کے ساتھ نا زیادتی کی جا رہی ہے وہ اسی کا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیا جائے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خاموشی اختیار کر لے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہاں نا انصافی کی جارہی ہے وہ کترا کر نکل جائے اور جو کہنے کی بات ہے اس کو نہ بان پر نہ لائے ۔ اس قسم کا طرز عمل ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے اوپر اللہ کو نگراں نہیں سمجھتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues