Al-Risala · June 1980 · page 33

کیسے اچھے ساتھی

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳

کیسے اچھے ساتھی

ومن يُّطِعِ الله والرسول فاولئك مع الذين اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا تو ایسے انعم الله عليهم من النبيين والصديقين لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا انعام کیا۔ والشهد اء والصالحين حسن اولئك رفیقا۔ انبیاء، صدیقین، شہدار اور صالحین۔ اور وہ کیسے اچھے ذلك الفضل من الله وكفى بالله عليما شاء ، ساتھی ہیں۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کا علم کافی ہے۔

اللہ کے انعام یافتہ بندے کون ہیں۔ یہ وہ نیک روحیں ہیں جن کو دنیا میں اطاعت خداوندی کے تحت زندگی گزارنے کی توفیق ملی۔ وہ اس دین پر قائم رہے جس پر تمام زمین و آسمان قائم ہیں۔ جنہوں نے اپنے کو خدا کے اس تخلیقی منصوبے میں شامل کر دیا جس میں کائنات کی تمام چیزیں اپنے کو شامل کئے ہوئے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے "کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اسی کی فرماں بردار ہیں زمین و آسمان کی تمام چیزیں (آل عمران) گویا انسان سے جس دین کو اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ کوئی نیا یا کائنات سے علیحدہ دین نفیس ہے، بلکہ وہی دین ہے جس پر ساری کائنات قائم ہے۔

کائنات کا دین کیا ہے۔ کائنات کا دین اطاعت الہی ہے۔ یعنی اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کے اندر اپنی سرگرمیاں جاری کرنا۔ درخت زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے مگر وہ اپنا سایہ زمین پر بچھا دیتا ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں مگر وہ کسی سے ٹکراؤ نہیں کرتیں۔ سورج اپنی روشنی بکھیرتا ہے مگر وہ چھوٹے بڑے میں کوئی فرق نہیں کرتا ۔ بادل بارش برساتے ہیں مگر وہ اپنے اور غیر میں تمیز نہیں کرتے۔ چڑیاں اور چیونٹیاں اپنے اپنے رزق کی تلاش میں مصروف ہوتی ہیں مگر وہ ایک دوسرے کا حصہ نہیں چھینتیں۔

یہ کائنات کا دین ہے اور اسی دین پر انسان کو بھی رہنا ہے۔ اللہ کے محبوب بندے وہ ہیں جو دنیا میں درخت کے سایہ کی طرح متواضع بن کر رہے۔ جو دوسروں کے درمیان اس طرح گزرے جیسے ہوا کے لطیف جھونکے لوگوں کے درمیان سے گزر جاتے ہیں۔ جن کا فیض اور جن کی مہربانیاں بارش کی طرح ہر ایک کے لئے عام ہوں۔ جو دریا کے پانی کی طرح دوسروں کے لئے سیرابی بن جائیں۔ جنھوں نے سورج کی روشنی کی طرح ہر ایک کو اجالے کا تحفہ دیا۔ جنھوں نے اپنی سرگرمیوں کے دوران اس بات کی احتیاط رکھی کہ ان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ انبیاء اس دین کی تعمیل میں کمال کے درجہ پر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد صدیقین کا درجہ ہے، پھر شہدار اور پھر صالحین کا۔ جنت انھیں پاک روحوں کا معاشرہ ہے۔ جنت وہ نہیں اور لذیذ مقام ہے جہاں آدمی کو اپنے پڑوسی سے پھولوں کی مانند خوشبو ملے گی اور چڑیوں کے چہچہے جیسے بول سننے کو ملیں گے۔ جہاں ایک کا دوسرے سے ملت لطیف ہواؤں سے ملنے کی طرح ہوگا ۔ کیسی عجیب ہوگی جنت اور کیسا عجیب ہوگا اس کا پند س۔ الرسائل جون ۱۹۸۰ء

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page