Al-Risala · June 1980 · page 44

جب گفتگو بے نتیجہ ہو کر رہ جائے

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴

جب گفتگو بے نتیجہ ہو کر رہ جائے

دو آدمیوں کے درمیان گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک شخص نے کہا: "بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آپ ان کو صرف محسوس کر سکتے ہیں، ان کو الفاظ کی صورت میں متعین نہیں کر سکتے۔ مثلاً گڑ اور شکر کو لیجئے ۔ چکھ کر ہر آدمی محسوس کر سکتا ہے کہ گڑ کا مزہ کیا ہے اور شکر کا مزہ کیا۔ لیکن اگر دونوں کے مزے کے فرق کو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو آپ ان کو بیان نہیں کر سکتے۔ " دوسرا آدمی فوراً بولا : " مجھے دونوں کا فرق معلوم ہے، اس کے بعد اس نے دونوں کے طبی اور غذائی فرق پر تقریر شروع کر دی " شکر کی تاثیر ٹھنڈی ہے اور گڑ کی تاثیر گرم ہے ۔ . . . . ، ظاہر ہے کہ اس قسم کی معلومات کی ایک انسائیکلو پیڈیا بھی تیار ہو جائے تو گڑ اور شکر کے مزے کے فرق کو لفظوں میں متعین نہ کر سکے گی۔ مذکورہ بزرگ نے مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی مسکراہٹ کا لحاظ کئے بغیر اپنی تقریر جاری رکھی۔ کسی گفتگو کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کچھ باتیں پہلے سے جانتا ہو اور ان کو تسلیم کرتا ہو، مگر اگر آپ کا مخاطب ایسا ہو کہ وہ نہ تو ضروری باتوں کو جانے اور نہ ان کو تسلیم کرے تو آپ اپنی گفتگو کو کسی حقیقی نتیجہ تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

کبھی آدمی اپنے خیالات میں اتنا گم ہوتا ہے کہ دوسرے کی بات اس کے ذہن میں داخل نہیں ہوتی۔ اس کو سن کروہ ایسے عجیب و غریب انداز میں اس کا جواب دیتا ہے جیسے اس نے کہنے والے کے اصل مدعا کو سمجھا ہی نہ ہو۔ ٹرین چل رہی تھی۔ ڈبہ کے ایک مسافر نے اپنا سگار سلگایا ۔ سامنے بیٹھی ہوئی عورت نے اس کی طرف دیکھا اور نرمی سے کہا: "تمباکو کے دھوئیں سے میری طبیعت خراب ہونے لگتی ہے ۔ " مسافر نے اطمینان سے عورت کی بات سنی اور اس کے بعد گہرا کش لیتے ہوئے بولا : " محترمہ ! ایسی حالت میں تو میں آپ کو یہی مشورہ دے سکتا ہوں کہ آپ تمباکو نوشی نہ کیا کریں ، خاتون کا مقصد یہ تھا کہ مسافر ڈبہ کے اندر تمباکو نوشی نہ کرے ۔ مگر مسافر نے خود خاتون کو تمباکو نوشی نہ کرنے کی تلقین شروع کر دی ۔ جب بھی آپ کسی کی بات کا جواب دے رہے ہوں تو سب سے پہلے آپ کو بے لاگ طور پر یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہئے کہ کہنے والے نے کیا کہا ہے ۔ اس کے بعد ہی آپ اس کی بات کا صحیح جواب دے سکتے ہیں ۔ اچھی طرح سمجھے بغیر جو جواب دیا جائے وہ خود اپنے ذہن کی بات کا جواب ہوتا ہے نہ کہ مخاطب کی کہی ہوئی بات کا جواب۔

ایک صاحب نے کہا: " الرسالہ کی غلطی اسی سے واضح ہے کہ اس نے اپنا نام الرسالہ رکھا ہے، نہ ان کے نزدیک الرسالہ کا مطلب تھا " سب سے اچھا رسالہ “۔ اور ظاہر ہے کہ جو اپنے کو سب سے اچھا کہے وہ یقیناً سب سے زیادہ برا ہے ، ان کو بتایا گیا کہ الرسالہ اردو " رسالہ" کے معنی میں نہیں ہے۔ یہ عربی لفظ ہے اور اس کے معنی پیغام (The Message) کے ہیں۔ مگر وہ بدستور بحث کرتے رہے۔ وہ صرف اردو ”رسالہ“ سے آشنا تھے پھر عربی " الرسالہ " ان کے ذہن کا جز کس طرح بنتا ۔ عربی الرسالہ کو سمجھنے کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا نہ مشکل ترین کام ہے جہاں بڑے بڑے پہلوان بھی بے بس ثابت ہوتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page