Al-Risala · June 1980 · page 47

نیک اور بد ہونے کی پہچان

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۴۷

نیک اور بد ہونے کی پہچان

حضرت عائشہ رضہ سے ایک شخص نے پوچھا : میں اپنے آپ کو نیک کب سمجھوں ۔ انھوں نے جواب دیا : جب تجھ کو اپنے برے ہونے کا گمان ہو جائے۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا : میں اپنے آپ کو برا کب سمجھوں ۔ جواب دیا جب تو اپنے آپ کو نیک سمجھنے لگے۔ دین کے نام پر دنیا کمانا بے حسی پیدا کرتا ہے حسن بصری نے کہا : عالم کی سزا اس کے دل کا مر جانا ہے۔ پوچھا گیا دل کا مرنا کیا ہے۔ فرمایا : آخرت کے عمل سے دنیا کا فائدہ چاہنا۔ ( عقوبۃ العالم موت القلب ۔ قیل لہ وما موت القلب ۔ قال : طلب الدنیا بعمل الآخرۃ ۔ جامع بیان العلم وفضله،جزء ، جزء اول ، صفحه ۱۹۲ )

موت کا دن آدمی کے جاگنے کا دن ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ سوئے ہوئے ہیں۔ جب مریں گے تو بیدار ہوں گے (الناس نيام اذا ماتوا انتبهوا) یعنی انسان دنیا میں اتنا مشغول ہے کہ وہ آخرت کے معاملہ میں غافل ہو گیا ہے ۔ گویا کہ وہ دنیا میں جاگ رہا ہے اور آخرت میں سو رہا ہے ۔ مگر جب موت اس کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو اس کو معلوم ہو گا کہ وہی چیز اصل تھی جس کو اس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا ۔

دنیا کی طرح لگاؤ آدمی کو آخرت کے معاملہ میں کمزور کر دیتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک زمانہ آئے گا : جب تم سیلاب کے خس و خاشاک کی طرف بے حقیقت ہو جاؤ گے ۔ صحابہ نے پوچھا اے خدا کے رسول اس کا سبب کیا ہو گا ۔ آپ نے فرمایا تمہارے اندر دھی پیدا ہو جائے گا ۔ لوگوں نے دوبارہ پوچھا اے خدا کے رسول دھی کیا ہے ، آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کا ڈر (حب الدنیا کراهية الموت ) آدمی اپنے کو جہنم کے کنارے کھڑا ہوا پائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے ۔ وہاں آپ نے جو پہلا خطبہ دیا وہ یہ تھا : اے لوگو ! اپنے لئے آگے بھیجو ۔ یقیناً تم اس کو جان لو گے۔ خدا کی قسم ضرور ایسا ہو گا کہ تم میں سے ہر شخص پر بے ہوشی طاری ہو گی بکریوں والا بکریاں چھوڑ کر اس طرح چلا جائے گا کہ ان کا کوئی گلہ بان نہ ہو گا۔ پھر اس کا رب اس سے کہے گا اور اس کے اور خدا کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا اور نہ بیچ میں کوئی رکاوٹ حائل ہوگی ، اس کا رب اس سے کہے گا کیا تمہارے پاس میرا پیغمبر نہیں آیا ۔ پھر تم کو اس نے میرا پیغام پہنچایا ۔ اور میں نے تم کو مال دیا اور تمہارے اوپر فضل کیا۔ پھر تو نے اپنے لئے آگے کیا بھیجا ۔ اس وقت وہ آدمی اپنے دائیں اور بائیں دیکھے گا تو وہاں کچھ نہ پائے گا ۔ پھر وہ اپنے آگے دیکھے گا تو اس کو وہاں جہنم کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے گا ۔ پس جو اپنے چہرے کو آگ سے بچا سکے تو وہ ضرور بچائے خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ سے ہو۔ اور جس کے پاس وہ بھی نہ ہو تو وہ میٹھا بول بولے۔ کیوں کہ اس کا بھی بدلہ ملے گا۔ اور نیکی کا بدلہ دس گنا سے شروع ہوتا ہے اور سات سو گنا تک ملتا ہے والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته (سیرت النبی لابن ہشام، جلد ۲ )

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page