Al-Risala · June 1980 · page 38

کوئی اندھیرے کی طرف جارہا ہے کوئی اجالے کی طرف

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸

کوئی اندھیرے کی طرف جارہا ہے کوئی اجالے کی طرف

اللہ ولی الذین آمنوا یخرجہم من الظلمت اللہ ساتھی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ، ان کو وہ الی النور والذین کفروا اولیہم الطاغوت اندھیرے سے نکال کر اجالے میں لاتا ہے۔ اور جو منکر یخرجونہم من النور الی الظلمت اولئک ہوئے ان کے دوست شیطان ہیں، وہ ان کو اجالے اصحاب النار ہم فیہا خالدون (بقرہ ۲۵۷) سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں ایسے لوگ آگ میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

اندھیرے سے نکل کر اجالے میں جانا یہ ہے کہ آدمی کے سامنے باطل کا راستہ کھلا ہوا ہو، مگر وہ اس کو چھوڑ کر حق کے راستہ کی طرف جائے۔ اور اجالے سے نکل کر اندھیرے میں جانا یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق کا راستہ کھلا ہوا ہے مگر وہ اس کو چھوڑ کر باطل کے رخ پر چل پڑتا ہے۔ ایک شخص اسٹیشنری کی دکان کرتا ہے۔ محلہ کا ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہا کہ مجھ کو ایک قلم چاہئے۔ اس نے دیکھ کر دس روپے کا ایک قلم پسند کیا۔ اس نے کہا کہ یہ مجھے دے دو، میں کل آؤں گا اور اس کی قیمت تم کو ادا کر دوں گا۔ دکان دار نے قلم دے دیا۔ کل آئی اور گزر گئی۔ مگر آدمی نہ دکان پر آیا اور نہ پیسہ ادا کیا یہ یہاں تک کہ ایک ہفتہ گزر گیا۔ ایک ہفتہ کے بعد وہ آدمی دکان دار کو ملا، دکان دار نے پیسہ کا تقاضا کیا۔ اب اس آدمی کے لئے دو راستے تھے ۔ ایک یہ کہ وہ کہتا کہ ”معاف کیجئے، مجھ سے بھول ہوگئی۔ میں اپنا وعدہ پورا نہ کر سکا۔ میں ابھی آپ کو پیسہ دیتا ہوں“ اس کے بعد وہ دکان دار کو دس روپے ادا کر دے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دکان دار کا تقاضا سنتے ہی بگڑ گیا۔ اس نے کہا ”آپ دس روپیہ کے لئے مجھ کو بے عزت کر رہے ہیں۔ یہ کوئی مانگنے کا طریقہ ہے۔ آپ کو شرم نہیں آتی۔ کسی شریف آدمی سے کہیں سر بازار پیسہ مانگا جاتا ہے ، “ وہ اس طرح لڑ جھگڑ کر چلا گیا اور پیسہ نہیں دیا۔ ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت تاریکی سے روشنی کی طرف جانے کی صورت ہے اور دوسری صورت روشنی سے تاریکی کی طرف جانے کی۔ جس آدمی کا ساتھی خدا ہو اس کا ذہن خدا کی توفیق سے حق کو ماننے اور امانت کو ادا کرنے کے رخ پر چلتا ہے۔ وہ انکار کے بجائے اعتراف کو اپنا شیوہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس جس کا ساتھی شیطان ہو وہ شیطان کی ترغیب سے متاثر ہو جاتا ہے اور اس کا ذہن حق کو جھٹلانے اور امانت کو ادا نہ کرنے کی طرف چلنے لگتا ہے۔ وہ اعتراف کے بجائے انکار کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ انصاف کے بجائے ظلم کے راستہ پر دوڑ پڑتا ہے۔ یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے، جب بھی کوئی معاملہ سامنے پیش آئے، خواہ وہ ایک دینی پیغام کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا ہو یا لین دین کے ایک معاملہ میں حق کو ادا کرنے یا حق کو ادا نہ کرنے کا سوال ہو، ہر معاملہ میں آدمی کے سامنے دو رخ ہوتے ہیں۔ ایک اجالے کا اور دوسرا اندھیرے کا۔ اگر آدمی کا ساتھی خدا ہو تو اس کے ذہن کی پٹری اعتراف اور تسلیم اور ادائیگی حق کے رخ پر چلتی ہے۔ اور اگر اس کا ساتھی شیطان ہو تو وہ اس کے خیال کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page