امتحان غیرمعمولی حالات میں
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
امتحان غیرمعمولی حالات میں
قرآن میں کہا گیا ہے: کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اتنا کہہ کر چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور وہ جانچے نہ جائیں گے۔ حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو جانچا ہے جو پہلے تھے۔ پس ضرور ہے کہ اللہ جان لے کہ کون سچے ہیں اور کون جھوٹے ہیں (عنکبوت) اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا مومن ہونا یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے کو مومن کہہ دے یا اپنے کو مومن سمجھے۔ مومن حقیقۃً وہ ہے جس کے مومن ہونے کی تصدیق خدا کے یہاں ہو جائے۔ کسی کے ایمان کو اگر خدا جھوٹا ایمان کہے تو اس کے ایمان کی کوئی قیمت نہیں خواہ دنیا میں وہ مومن اعظم کے نام سے پکارا جاتا ہو۔ کسی کے ایمان کے بارے میں خدا کا فیصلہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا بلکہ غیرمعمولی حالات میں ہوتا ہے جس طرح دنیا کی زندگی میں کسی ساتھی یا رشتہ دار کے تعلق کا صحیح پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ کسی قسم کے غیرمعمولی حالات پیدا ہو جائیں۔ عام حالات میں کسی ساتھی یا رشتہ دار کی جانچ نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ آخرت کا ہے۔ آخرت کی دنیا میں جن لوگوں کو اس قابل سمجھا جائے گا کہ ان کو اللہ کا پسندیدہ بندہ قرار دیا جائے اور ان کے جنت کے دروازے کھولے جائیں وہ وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے غیرمعمولی حالات میں اپنی خدا پرستی اور تقویٰ کا ثبوت دیا ہوگا۔ یہ غیرمعمولی حالات کیا ہیں، اس سلسلہ میں یہاں چند صورتیں درج کی جاتی ہیں۔ 1- ایک صورت وہ ہے جو داعی حق کے اعتراف کے سلسلے میں پیش آتی ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے، پردہ داری کی سنت کے تحت اٹھتی ہے۔ یعنی حق کی آواز بلند کرنے کے لئے اللہ ایک ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جو دیکھنے میں لوگوں کو محض ایک ’’آدمی‘‘ معلوم ہوتا ہو۔ خدا کا داعی ہمیشہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جس کی زندگی میں دو چیزیں اپنی انتہائی صورت میں جمع ہو جاتی ہیں۔ دلائل کا زور اس کے یہاں کامل صورت میں موجود ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ مادی زور کے اعتبار سے اس کو بالکل ناقابل لحاظ بنا دیا جاتا ہے۔ اس طرح مدعو گروہ کو اس امتحان میں ڈالا جاتا ہے کہ اہمیت کے نہ ہوتے ہوئے بھی وہ دلائل کے وزن کو پا سکے۔ وہ داعی کی ظاہری حیثیت" سے گزر کر اس کو اس کی چھپی ہوئی حیثیت " میں دیکھے۔ یہ ایک غیرمعمولی صورت حال ہوتی ہے اور جو اس غیرمعمولی صورت حال میں حق کو پہچان لے وہی خدا کے یہاں ماننے والا اور تسلیم کرنے والا قرار پائے گا۔ ایک طرف وہ پکارنے والے ہیں جن کے گردو پیش دنیا کی رونقیں جمع ہوتی ہیں۔ دوسری طرف وہ خدا کا بندہ ہے جو ظاہری رونقوں سے خالی ہو کر خالص حق کے لئے آواز دیتا ہے۔ جو لوگ پہلی قسم کی آوازوں پر دوڑیں وہ گویا ظاہری رونقوں پر دوڑے اور جنہوں نے دوسری آواز کو پہچانا اور اس کا ساتھ دیا وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کی پکار پر لبیک کہا۔
۲- دنیوی تعلقات میں ہم کو دو طرح کے آدمیوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک وہ شخص جس سے ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی۔ دوسرا وہ شخص جس سے کسی نہ کسی سبب سے ہم کو شکایت ہو جاتی ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ لوگوں
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues