Al-Risala · June 1980 · page 39

کوئی اندھیرے کی طرف جارہا ہے کوئی اجالے کی طرف

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۳۹

اس طرح موڑ تا ہے کہ اس کا ذہن برعکس سپری پر چل پڑتا ہے۔ وہ ماننے کے بجائے انکار کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ۔ وہ تواضع کے بجائے گھمنڈ کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ ایک شخص ربانی نفسیات کے تحت عمل کرتا ہے اور دوسرا شیطانی نفسیات کے تحت ۔

جس شخص کو اندھیرے کے بجائے اجالے کی طرف چلنے کی توفیق ملتی ہے وہ بولنے سے زیادہ چپ دکھا ئی دیتا ہے، کیوں کہ وہ اپ احتساب کرنے لگتا ہے۔ وہ حق کو ٹھکرانے کے بجائے حق کو مان لیتا ہے۔ کیوں کہ وہ گھمنڈ کی نفسیات سے خالی ہوتا ہے۔ وہ معاملات میں بے انصافی کے بجائے انصاف پر چلتا ہے، کیوں کہ اس کو ڈر ہوتا ہے کہ وہ آخرت کی عدالت میں پکڑا جائے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ اجالے کے بجائے اندھیرے کی طرف چل پڑتے ہیں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوتے ۔ نہ بے معنی بحثیں چھیڑتے ہیں کیونکہ انہیں یہ یقین نہیں ہوتا کہ ان کو ہر بولے ہوئے لفظ کا حساب دینا ہے۔ وہ اپنی غلطی کو ماننے کے بجائے دوسروں کو الزام دیتے رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے کیے کو رد کرنے والا کوئی نہیں۔ کسی کی عزت پر حملہ یا کسی کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنے کا منصوبہ بنانا نا ان کے لئے بہت آسان ہوتا ہے، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ میں جو چاہوں کروں، میرا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں ۔

جب آدمی دنیا کو نظر انداز کر کے آخرت کی طرف بڑھتا ہے تو وہ اندھیرے سے اجالے کی طرف جاتا ہے۔ اسی طرح جب آدمی آخرت سے بے پروا ہو کر دنیا کو اپناتا ہے تو وہ اجالے سے اندھیرے کی طرف جاتا ہے۔ یہ عمل آدمی کی زندگی میں ہر روز جاری رہتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے وقت اور پیسے کو ان چیزوں میں نہیں لگاتا جن کا فائدہ آئندہ زندگی میں ملنے والا ہو، بلکہ وہ اپنے وقت اور پیسہ کو ان چیزوں میں لگاتا ہے جن کا فائدہ اس کو آج کی دنیا میں مل جائے ۔ جب ایک شخص خاموش دینی خدمت سے بے رغبت ہوتا ہے اور ان کاموں کی طرف دوڑتا ہے جن میں شہرت اور مرتبہ حاصل ہوتا ہو۔ جب ایک شخص ان چیزوں کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے جو دنیا کی رونقوں سے تعلق رکھتی ہیں، وہ چیزیں اس کی روح کی غذا نہیں بنتیں جن کو آخرت میں اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لئے جمع کر رکھا ہے تو ایسی تمام صورتوں میں آدمی اجالے کو چھوڑ کر اندھیرے کی طرف گیا ۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جس کے پاس اپنے وقت اور اپنے پیسہ کا مصرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کو اگلی زندگی کی بہتری میں لگائے، وہ نظر آنے والے فائدوں کے مقابلہ میں غیب میں چھپے ہوئے فائدوں پر اپنی جد و جہد کی بنیاد رکھتا ہے، جس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی شہرتوں اور عزتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ ان خاموش کاموں میں لگا رہتا ہے جن کو دنیا کے لوگ نہیں دیکھتے۔ البتہ خدا اور اس کے فرشتے ان کو دیکھتے ہیں۔ جس کی روح خدا کی حمد اور آخرت کی یاد میں پرورش پاتی ہے نہ کہ دنیوی اہمیت والی چیزوں پر۔ ایسا شخص وہ شخص ہے جس کے سامنے اندھیرے کی راہیں کھلی ہوئی تھیں مگر وہ ان کو چھوڑ کر اجالے کی طرف چلا گیا۔ اندھیرے کی طرف سفر کرنے والوں کی منزل دوزخ ہے اور اجالے کی طرف سفر کرنے والوں کی منزل جنت ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page