Al-Risala · June 1980 · page 43

مخاطب کی رعایت سے کلام کرنا

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۴۳

یقاتلون زیربر سے) ہے۔ یعنی یہ معروف کا صیغہ نہیں بلکہ مجہول کا صیغہ ہے۔ صحیح ترجمہ یہ ہوگا۔ Permission is given to those who are attacked. اجازت دی گئی ان کو جن سے جنگ کی جاتی ہے۔ صحیح تلاوت کے مطابق یہ آیت بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھیوں نے اپنے دفاع میں تلوار اٹھائی۔ جب کہ مذکورہ ترجمہ سے مفہوم نکلتا ہے کہ آپ جارح تھے اور خود ہی تلوار لے کر دوسروں کے اوپر ٹوٹ پڑے ۔

مخاطب کی رعایت سے کلام کرنا

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو معاف کردیں گے (نساء ۳۱) کسی نے حضرت سفیان ثوری سے پوچھا کہ اس آیت میں بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ سے کیا مراد ہے۔ انھوں نے کہا : بڑا گناہ وہ ہے جو بندے اور بندے کے درمیان ہو اور چھوٹا گناہ وہ ہے جو بندے اور خدا کے درمیان ہو (الکبائر ما كان فيه المظالم بينك وبين عباد الله تعالى والصغائر ما كان بينك وبين الله تعالى) ظاہر ہے کہ حضرت سفیان ثوری اس بات سے ناواقف نہ تھے کہ قرآن میں شرک کو سب سے بڑا ناقابل معافی گناہ قرار دیا گیا ہے (نساء48) ) انھوں نے یہ بات مخاطب کی رعایت سے کہی نہ کہ مطلق معنوں میں ۔ ایسے ماحول میں جب کہ لوگ خدا کے حقوق ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہوں مگر بندوں کے معاملہ میں سرکش اور ظالم بنے ہوئے ہوں تو مصلح کو اسی زبان میں کلام کرنا پڑتا ہے جس کا ایک نمونہ سفیان ثوری کے مذکورہ قول میں نظر آتا ہے۔

کچھ سے کچھ مطلب لے لینا

دیہات کی ایک خاتون بہت تیز نماز پڑھتی تھیں ۔ رکوع ، سجدہ سب بہت جلد جلد کرتی تھیں کسی نے کہا کہ تم نماز میں اتنی تیزی کیوں کرتی ہو ، ٹھہر ٹھہر کر کیوں نہیں پڑھتیں ۔ خاتون نے فوراًپر اعتماد لہجہ میں کہا : جس استاد نے مجھ کو نماز سکھائی اس نے کہا تھا کہ ” دیکھو ، نماز میں کبھی سستی نہ کرنا “ استاد کا مطلب یہ تھا کہ نماز کی پابندی میں کمی نہ کرنا ، مگر خاتون نے مطلب لے لیا کہ تیز تیز نماز پڑھنا اور دھیرے دھیرے نہ پڑھنا۔

بات کا رخ بدل دینے سے

ایک شخص دعا کر رہا تھا : اے میرے خدا ، مجھے کھانے کو روٹی دے ۔ مجھے پہننے کو کپڑا دے ۔ مجھے رہنے کو مکان دے، مجھ کو عزت و آرام کی زندگی دے ۔ ایک بزرگ نے سنا تو کہا : تم کیسی دعا کر رہے ہو ۔ خدا سے مانگنے کی چیزیں تو کچھ اور ہیں۔ آدمی نے پوچھا : پھر آپ کس طرح دعا کرتے ہیں ۔ بزرگ نے کہا : میں اس قسم کی چیزیں نہیں مانگتا ۔ میں تو جب دعا کرتا ہوں تو کہتا ہوں : اے میرے خدا ، مجھ کو ایمان دے ۔ مجھ کو عمل کی توفیق دے ۔ آدمی نے یہ سن کر کہا : حضرت آپ ٹھیک ہی دعا مانگتے ہیں۔ کیوں کہ انسان خدا سے دعا کرتا ہے تو وہی چیز مانگتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی ۔ ۔۔۔۔ کسی بات کا مطلب سمجھنے کے لئے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ اگر آدمی بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو تو وہ اس کا کچھ سے کچھ مطلب نکال سکتا ہے حتی کہ ایسا مطلب بھی جس کا قائل کی منشا سے کوئی تعلق نہ ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page