Al-Risala · June 1980 · page 44

ہم ان کو اچھا ٹھکانا دیں گے

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴

ہم ان کو اچھا ٹھکانا دیں گے

والذین ہاجروا فی ٱللَّهِ من بعد ما ظلموا اور جنھوں نے ظلم سہنے کے بعد اللہ کے واسطے ہجرت کی لنبوئنھم فی الدنیا حسنة ولاجر الآخرة ان کو ہم دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو اکبر لو کانوا یعلمون الذین صبروا وعلیٰ بہت بڑا ہے، کاش ان کو معلوم ہوتا۔ جنھوں نے صبر کیا ربہم یتوکلون (نحل ۴۲) اور اپنے رب پر بھروسہ کیا۔

حق کی یہ آمیز دعوت جب بھی اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اس کے سخت مخالف ہو جاتے بنں جو ناحق کو حق بتا کر اپنی قیادت قائم کئے ہوئے ہوں۔ ایسی دعوت ان لوگوں کے لئے اپنی حیثیت کی نفی کے ہم معنی ہی جاتی ہے ۔ وہ حق کی دعوت کو دبانے اور کچلنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف شوشے نکال کر اس کو بدنام کرتے ہیں۔ وہ اس کی جڑ اکھاڑنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ وہ عوام کو اس سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس کے خلاف جارحانہ اقدام سے بھی باز نہیں آتے۔ ان مظالم کے مقابلہ میں حق کے داعیوں کے پاس جو سہارا ہوتا ہے وہ صرف صبر اور توکل ہے یعنی اللہ کی خاطر ہر تکلیف کو برداشت کرنا اور اس امید پر اپنا سفر جاری رکھنا کہ اللہ ضرور ان کی مدد فرمائے گا۔ مخالفین کے پاس مادی اسباب ہوتے ہیں اور ان کے پاس خدا کے وہ وعدے ہوتے ہیں جو اس نے حق کے داعیوں سے اپنی کتاب میں کئے ہیں ۔ مخالفین کے پاس دنیوی طاقتیں ہوتی ہیں اور ان کے پاس یہ یقین کہ اللہ کا ایک غیبی نظام ہے اور یہ نظام ضرور ان کی مدد کرے گا۔ حق کے داعیوں کو جب اپنے ابتدائی مقام پر کام کرنا ناممکن بنا دیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے ایک مُبَوَّء(ٹھکانا) (ٹھکانا) فراہم کرتا ہے۔ یعنی ایک ایسی تبادل جگہ جوان کے لئے دعوتی مرکز کا کام دے۔ جہاں اپنے قدم جما کر وہ زیادہ مؤثر انداز میں اپنی دعوتی مہم کو جاری رکھ سکیں ۔ ابراہیم علیہ السلام کو مکہ میں یہ مُبَوَّء دیا گیا (حج 26) یہود کے لئے شام و فلسطین کی زمین کی مبوء بنا دیا گیا (یونس ۹۳) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو مدینہ کی صورت میں مبوء فراہم کیا گیا (حشر (۹)

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مہربان باپ اپنی جیب سے پیسہ نکالتا ہے اور اپنے چھوٹے بچہ کے ہاتھ میں پکڑا کر کہتا ہے کہ یہ فلاں آدمی کو دے دو۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دعوت حق کےلیے مبوء کی فراہمی کا ہے۔ یہ اگرچہ ایک خدائی عطیہ ہے مگر ظاہری طور پر کچھ انسانوں کے ذریعہ اس کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اس عظیم خوش قسمتی کے لئے چنتا ہے کہ اس کو دعوت حق کے ساتھ تعاون کرنے والوں میں لکھے تو وہ اس کے دل میں اس کام کی اہمیت ڈال دیتا ہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ کے قبائل نے جس طرح باہر کے مسلمانوں کو ٹھکانا دیا اور اپنی جائدادیں اور مکانات ان کے لئے پیش کر دیے وہ انسانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ یہ عظیم قربانی اس کے بغیر ممکن نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ خصوصی طور پر ان کے دلوں کو اس طرف مائل کردے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page