Al-Risala · July 1980 · page 4

جب بادشاہ بھی جھک جاتے تھے

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴

سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آگیا ۔ گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحکم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت تکلیف دی ۔ اب میں نے طے کر لیا ہے کہ ان کے پیچھے جمعہ کی نماز کیں پڑھوں گا ۔ الحکم نے کہا: قاضی منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے ۔ آپ ان کو معزول کر دیجئے اور ان کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجئے جو ایسی گستاخی نہ کرے ۔ یہ سن کر سلطان غصہ میں آگیا ۔ اس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمھار ابراہیمو ، ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستہ سے بھٹکا ہوا ہے کیا اس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا۔ یہ بات کبھی نہیں ہو سکتی (ھذ ا مالا یکون) مجھے ان کی باتوں سے چوٹ لگی اس لئے میں نے ان کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھا لی ۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے (بل يصلی بالناس حياتنا و حیاتہ ان شاء اللہ تعالیٰ) چنانچہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبد الرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے نے بھی ان کے مقام کو اسی طرح باقی رکھا۔ سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانہ میں ایک بار قحط پڑا۔ بہت سخت حالات پیدا ہو گئے ۔ سلطان نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر بن سعید کے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ آپ استسقاء کی نماز پڑھائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش برسائے۔ قاضی منذر نے سلطان کے قاصد سے پوچھا کہ سلطان نے میرے پاس دعا کا پیغام بھیجا ہے مگر وہ خود کیا کر رہے ہیں۔ ۔ قاصد نے کہا: آج سے زیادہ ہم نے کبھی ان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں پایا ۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ حیران و پریشان ہیں۔ تنہائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ مٹی کے فرش پر نماز پڑھ رہے تھے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے اور اللہ سے کہہ رہے تھے : خدایا میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا حالاں کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذا ناصيتي بيدك ، ا تراث تعذب بي الرعية وانت ارحم الراحمين)

یہ سن کر قاضی منذر کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہو گیا۔ انھوں نے قاصد سے کہا: اپنے ساتھ بارش لے کر واپس جاؤ۔ اب ضرور بارش ہو گی۔ کیوں کہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے (اذا خشع جبار الارض فقد رحم جبار السماء) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قاصد واپس ہو کر گھر بھی نہ پہنچا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page