Al-Risala · July 1980 · page 5

کلمۂ شہادت

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۵

کلمۂ شہادت

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ آدمی صرف اللہ کو اپنا سب کچھ بنائے گا اور اپنی زندگی میں پوری طرح پیغمبر خدا کی تعلیمات کی پابندی کرے گا۔ اب جو شخص کلمہ پڑھنے کے باوجود اپنی سوچ اور اپنی توجہ کا مرکز خدا کے سوا دوسری چیزوں کو بنائے اور اپنی زبان اور اپنے ہاتھ پاؤں کو رسول کے طریقے کا پابند نہ کرے اس کا کلمہ پڑھنا محض فرضی تھا۔ اس کا کلمہ پڑھنا ایسا ہی تھا جیسے کوئی شخص زبان سے کہے کہ میں مسجد جا رہا ہوں، حالانکہ علاوہ کلب کی طرف جا رہا ہو نہ کہ وہاں کلب کے ممبروں کے ساتھ تفریح کرے نماز نماز آدمی کو اللہ سے ڈرنے والا بناتی ہے۔ نماز اس لئے فرض کی گئی ہے کہ وہ آدمی کو متواضع بنائے اور اس کو بری باتوں سے روکے۔ اب جو شخص نماز پڑھنے کے بعد بھی متکبر بنا رہے اور بری باتوں کو چھوڑنے پر راضی نہ ہو اس نے صرف نماز کی شکل کو لیا اور اس کی روح کو چھوڑ دیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بھوکا آدمی برتن چبائے مگر اس کے اندر جو کھانا ہے اس کو منہ میں نہ ڈالے۔

روزہ

روزہ اس بات کا ایک سالانہ سبق ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچ کر زندگی گزارے۔ ایسی حالت میں جو شخص کھانے پینے کا روزہ رکھے اور حسد اور بغض اور جھوٹ اور بے انصافی کو نہ چھوڑے اس نے روزہ رکھ کر بھی روزہ نہیں رکھا۔ اس نے گویا خدا کی جائز کی ہوئی چیزوں سے روزہ رکھا اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو بدستور کھاتا رہا۔

زکوٰۃ

زکوٰۃ کا مقصد آدمی کے دل کو حرص اور بخل اور تنگ ظرفی سے پاک کرنا ہے اور ایک آدمی کو دوسرے آدمی کا خیر خواہ بناتا ہے۔ زکوٰۃ کا پیغام یہ ہے کہ تم دوسروں سے بے تعلق نہ رہو بلکہ ان کے معاملات میں ان کے مددگار بنو۔ اب اگر زکوٰۃ دینے کے بعد بھی آدمی کے دل سے خود غرضی اور تنگ ظرفی ختم نہ ہو وہ بدستور اپنے بھائی کا بد خواہ بنا رہے تو گویا کہ اس نے زکوٰۃ نہیں دی بلکہ زکوٰۃ کے نام پر محض ایک قسم کا ٹیکس ادا کیا۔

حج

حج خدا کی طرف سفر ہے۔ حج آدمی کو اس دن کی یاد دلاتا ہے جب کہ وہ دنیا سے نکل کر آخرت کی طرف چلا جائے گا۔ اب اگر حج کرنے کے بعد بھی آدمی دنیا میں غرق ہو۔ دنیا کی مصلحتیں، دنیا کے فائدے، دنیا کے تقاضے اس کی دل چسپیوں کا مرکز بنے رہیں تو اس نے حج کے نام پر ایک دنیوی سیاحت کی نہ کہ خدا کی طرف سفر جس کے بعد آدمی ہمہ تن اللہ والا ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page