موت کے کنارے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۱
اسمِ اعظم کیا ہے؟
ایک بزرگ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہہ اللہ کا اسم اعظم کیا ہے ۔ بزرگ نے فرمایا : جب آدمی کا پیٹ غذا سے خالی ہو اور اس کا دل کینہ سے خالی ہو تو وہ اللہ کے ناموں میں سے جس نام سے بھی اپنے رب کو پکارے گا وہی اسم اعظم ہو گا ( تذکرۃ الاولیاء ) گویا اسم اعظم کا تعلق " اسم " سے نہیں بلکہ کیفیت سے ہے۔ اسم اعظم وہ ہے جو اعلی کیفیات کے ساتھ زبان سے نکلے۔ کیفیات کی عظمت کسی اسم کو اسم اعظم بناتی ہے نہ کہ حروف تہجی کی عظمت۔ پیٹ خالی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی مادیات کے غلبہ سے آزاد ہے اور دل میں کینہ نہ ہونا بتاتا ہے کہ آدمی اپنے سینہ میں کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی لئے ہوئے نہیں ہے۔ جب کوئی آدمی اپنے کو مادی رونقوں سے اور انسانی شکایتوں سے اوپر اٹھالیتا ہے تو وہ خدا کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ اس کو خدا کے خصوصی فیضان میں سے حصہ ملنے لگتا ہے۔ ایسے وقت میں خدا کے صفاتی ناموں میں سے کوئی نام جب اس کی زبان پر آتا ہے تو وہ ربانی کیفیات میں نہایا ہوا ہوتا ہے۔ ان کیفیات کے ساتھ جو بہتر نام آدمی کی زبان سے نکلے وہی اس کے لئے اسم اعظم ہے۔
کچھ لوگ اسلام کے معاملہ کو پاک کلمات کا ایک پرا سرار معاملہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام کے کچھ خاص عربی الفاظ ہیں جن میں طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان پاک الفاظ کو یاد کر لے اور زبان سے ان کو ادا کرے تو ان کی صرف ادائیگی سے کراماتی نتائج ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ دنیا میں آل و اولاد میں برکت ہوگی اور آخرت میں جنتی محل بننے لگیں گے۔ ان کے نزدیک ان با برکت کلمات میں سب سے زیادہ اونچا "اسم اعظم" ہے۔ مگر یہ محض بے بنیاد خیال ہے جس کا کوئی ثبوت کتاب و سنت میں موجود نہیں۔ اسم اعظم حقیقتاً حروف کے کسی مجموعہ کا نام نہیں بلکہ کیفیات کے مجموعہ کا نام ہے۔ اللہ کو جب کوئی بندہ اس طرح یاد کرتا ہے کہ وہ ہر دوسری چیز سے اپنا رخ موڑ کر صرف اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرتا ہے کہ انسانوں کے لئے اس کے دل میں خیر خواہی کے سوا کوئی اور جذبہ باقی نہیں رہتا تو اس وقت اس کی زبان سے اللہ کے لئے جو کلمات نکلتے ہیں ، اسی کا نام اسم اعظم ہے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے " کہہ کر تم اللہ کہو کہ پکارو یا رحمن کہ کر پکارو، جس نام سے بھی پکارو گے تو اس کے سب نام اچھے ہیں " ( بنی اسرائیل ) اللہ خالق بھی ہے اور مالک بھی وہ رحیم بھی ہے اور اکبر بھی۔ وہ سب کچھ ہے۔ جس بر تر نام سے بھی آدمی اس کو پکارے وہ اس کے لئے جائز ہوگا۔ البتہ پکارنے والے کی زبان سے نکلنے والا ایک لفظ کبھی اس کے لئے " اسم اعظم " بن جاتا ہے۔ یہ پکارنے والے کی کیفیت پر ہوتا ہے۔ اللہ کو اس کی صفتوں میں سے کسی صفت سے پکارنا کبھی سادہ اور عام حالت میں ہوتا ہے اور کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ خدا کا نام لیتے ہوئے آدمی کی شخصیت پھٹ پڑتی ہے۔ خدا کا نام لینا اس کی روح میں برپا ہونے والے طوفان کی آواز ہوتا ہے۔ اس طرح دل کے بھونچال کے ساتھ خدا کا نام لینا عام حالت میں اس کا نام لینے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے اسم کو اسم اعظم بنا دیتا ہے۔ بندہ جب اللہ کی عظمتوں کے احساس سے سرشار ہو اور اس کی سرشاری زبان پر لفظ کی صورت میں ڈھل جائے تو یہی اللہ کو اسم اعظم کے ساتھ یاد کرنا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues