Al-Risala · July 1980 · page 14

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

اسی کو ناحق ستانا، کسی کو بلاوجہ بے عزت کرنا اس زمین پر سب سے بڑا ناقابل معافی جرم ہے۔ جو لوگ ایسا جرم کریں وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ ایسے جرم کی سزا ان کو اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے سخت عذاب ہے، خواہ وہ بزعم خود اپنے کو کتنا ہی بڑا مسلمان سمجھتے ہوں۔ کتنی سنگین ہے یہ صورت حال۔ اس کے باوجود آدمی دوسرے کو ناحق ستاتا ہے، وہ بلاوجہ دوسرے کو بے عزت کرتا ہے۔ حتی کہ وہ لوگ بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس جرم میں شریک رہتے ہیں جو کسی نام پر اپنی قیادت قائم کئے ہوئے ہیں کہ وہ خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے پاک کرنے کے لئے آئے ہیں۔ شاید لوگوں کو معلوم نہیں کہ "عدل" کے الفاظ بولنا اور ظلم پر عمل کرنا اللہ کی نظر میں آدمی کے جرم کو بڑھاتا ہے، دکھی بھی درجہ میں اس کے جرم کو کم نہیں کرتا۔ کوئی آدمی عادل ہے یا ظالم ، اس کا فیصلہ آدمی کے حقیقی عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ بولے اور لکھے ہوئے الفاظ کی بنیاد پر ۔ مزید یہ کہ ظالم صرف وہ نہیں ہے جس نے اپنے ہاتھوں سے ظلم کیا۔ بلکہ وہ لوگ بھی یکساں طور پر نظام میں جنھوں نے ظالم کو شہ دی ہو، جنھوں نے قدرت کے باوجود ظالم کا ہاتھ نہ پکڑا ہو، جو ظالم کے ظلم کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود اس پر راضی ہے ہوں۔ اللہ کے یہاں یہ سارے لوگ ایک ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ آخرت میں ان میں سے ایک کا جو انجام ہوگا وہی انجام ان میں سے دوسرے کا بھی ہوگا ”بہت سے شاعر اپنے اشعار میں انسان دوست ہوتے ہیں ، مگر ان کو زید، عمر، بکر سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی“ یہ بات جو ادبی ناقد نے شاعروں کے بارے میں کہی ہے ، وہی ہمارے قائدین کے بارے میں صدفی صد درست ہے۔ ہمارا ہر قائد ملت کی ہمدردی کی باتیں کرتا ہے۔ وہ ملت کے مسائل پر تقریریں کرتا ہے اور بیان دیتا ہے۔ کہیں فساد ہو جائے تو فورا ہوائی جہاز سے اگر وہاں حالات کا جائزہ لینے کے لئے جاتا ہے۔ ملی مسائل کے بارے میں حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقاتیں کرتا ہے اور بڑے بڑے اجتماعات میں اس کی بابت تجویزیں پاس کرتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ جس ملت کے بارے میں ہوتا ہے، اسی ملت کا ایک فرد اگر اس سے ہمدردی اور انصاف کی مانگ کرے تو اس کو سخت مایوسی ہوتی ہے۔ وہ ”ملت “ پر قربان ہونے کے لئے تیار ہے مگر "فرد" کو اس کا حق دینے کے لئے تیار نہیں۔ جمشید پور کے فساد کا واقعہ ہے۔ ایک لیڈر اپنے مکان سے باہر نکلا تو اس کے محلہ کا ایک آدمی اس کے سامنے آگیا ۔ اس آدمی کو لیڈر کے کارندے نے پریشان کر رکھا تھا۔ آدمی نے اس کی شکایت کی اور صورت حال بتائی ۔ مگر لیڈر نے پوری بات سننے کی زحمت نہیں کی ۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا " مجھے اس وقت کی فلائٹ سے جمشید پور جانا ہے " لیڈر ہوائی جہاز کے ذریعہ جمشید پور پہنچا۔ اگلے دن " بذریعہ ٹیلیفون" موصول شدہ خبر اس کے اپنے اخبار میں چھپی کہ لیڈر محترم نے جمشید پور کا دورہ کیا اور وہاں اقلیتی فرقہ کے ساتھ جو بر بریت کی گئی ہے اس کے سلسلے میں حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ۔۔۔۔ یہی ہمارے تمام لیڈروں کا حال ہے۔ ملت پر فدا ہونے کے لئے ہر شخص بے قرار ہے مگر فرد ملت پر فدا ہونے کی فرصت کسی کو نہیں۔ ”ڈرامہ نے“ کی سطح پر ہر آدمی مظلوموں کا ہمدرد رہے مگر ”کرنے“ کی سطح پر کوئی مظلوموں کا ہمدرد نہیں۔ (۱۰ اپریل ۱۹۸۰)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page