جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳
جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا ہم آپ کی پہرہ داری نہ کریں۔ آپ نے فرمایا: آدمی کی تقدیر اس کی پہرہ داری کرتی ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: وانہ لا یجد طعم الایمان حتی یعلم ان ما اصابه لم يكن ليخطئه و ما اخطأه لم يكن ليصيبه (ابو داؤد) ایمان کی لذت آدمی اس وقت تک نہیں پاتا جب تک نہ جان لے کہ جو کچھ اس پر گزر رہا ہے وہ اس سے چوکنے والا نہ تھا اور جو کچھ اس پر نہیں گزرادہ اس پر گزرنے والا نہ تھا۔
ایک معمولی چیز بھی بہت بڑی نعمت ہے
ابن ابی الدنیا اور ابن عساکر نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل کیا ہے : ما من عبد يشرب الماء القراح فيدخل بغیر اذى ويخرج بغیر اذى الا وجب عليه الشكر (كنز العمال جلد ۳) ایک بندہ سادہ پانی پئے، اور وہ پانی تکلیف کے بغیر اندر داخل ہو جائے اور تکلیف کے بغیر باہر نکل جائے تو اس پر اللہ کا شکر واجب ہے۔ اسلام اس لئے ہے کہ آدمی اس کے ساتھ جئے عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف ان رجلاً ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اتی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال : یا کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس رسول الله علمني كلمات اعيش بهن ولا تكثر على کے ساتھ میں جیوں اور لمبا نہ کیجئے کہ میں بھول جاؤں۔ فانسى - فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ نہ کر تغضب (موطا الامام مالک، كتاب الجامع)
اللہ سے اس حال میں ملو کہ کسی کا بوجھ تم پر نہ ہو ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے بتائیے کہ علم کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا : علم کی باتیں اس سے زیادہ ہیں کہ میں ان کو تمھیں لکھوں۔ مختصر یہ کہ اگر تم سے ہو سکے تو اللہ سے اس طرح ملو کہ تم نے اپنی زبان کو مسلمانوں کی عزت پر حملہ کرنے سے روکا ہو۔ تمھاری پیٹھ ان کے خون سے ہلکی ہو۔ تمھاراپیٹ ان کے مال سے خالی ہو۔ تم نے اپنے آپ کو مسلمانوں کی جماعت سے باندھ رکھا ہو (اكتب رجل الى ابن عمر رضى الله عنه يسأله عن العلم فاجابه : ان العلم اكثر من ان اكتب به اليك ولكن اذا استطعت ان تلقى الله كاف اللسان عن اعراض المسلمين، خفيف الظهر من دمائهم، خميص البطن من اموالهم، لازما لجماعتهم فافعل)
آدمی غیر معمولی حالات میں پہچانا جاتا ہے
لا يعرف الحلم الا ساعة الغضب - حلم و برد باری کی پہچان صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ آدمی غصہ کی حالت میں ہو (ابن عبد البر ، جامع بیان العلم وفضله، جز رثانی، صفحه ۱۵۵)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues