Al-Risala · July 1980 · page 18

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸

اور اللہ کتاب میں تم پر حکم اتار چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق کیا جا رہا ہے تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ وسری بات میں مشغول ہو جائیں۔ ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوگئے ۔ اللہ منافقوں کو اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ اکٹھا کرنے والا ہے۔ وہ منافق تمہارے لئے انتظار میں رہتے ہیں ۔ اگر تم کو اللہ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر منکروں کو کوئی حصہ مل جائے تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا۔ تو اللہ ہی تم لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا ۱۳۰- اللہ کی پکار جب بھی کسی انسانی گروہ میں اٹھتی ہے تو اتنی مضبوط بنیادوں پر اٹھتی ہے کہ دلیل کے ذریعہ اس کی کاٹ کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں رہتا۔ اس لئے کہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ اس کا مذاق اڑا کر اس کو بے وزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اپنے اس رویہ سے یہ بتا رہے ہیں کہ وہ حق کے معاملہ کو کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے اور جب آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو تو اس وقت اس سے بحث کرنا بالکل بے کار ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی چپ ہو جائے اور اس وقت کا انتظار کرے جب گفتگو کا موضوع بدل جائے اور مخاطب اس قابل ہو جائے کہ وہ بات کو سن سکے جس مجلس میں خدا کی دعوت کا مذاق اڑایا جائے وہاں بیٹھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آدمی حق کے معاملہ میں غیرت مند نہیں۔ منافق اس کی پروا نہیں کرتا کہ اصول پسندی کا تقاضا کیا ہے بلکہ جس چیز میں فائدہ نظر آئے اس طرف جھک جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس حلقہ کے ساتھ جوڑتا ہے جس کا ساتھ دینے میں اس کے دنیوی حوصلے پورے ہوتے ہوں، خواہ وہ اہل ایمان کا حلقہ ہو یا غیر اہل ایمان کا۔ وہ جس مجلس میں جاتا ہے اس کو خوش کرنے والی باتیں کرتا ہے۔ یہ مصلحتوں کی بنا پر کبھی اس کو سچے اہل ایمان کے ساتھ جڑ نا پڑے تب بھی وہ دل سے ان کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ سچے اہل ایمان کا وجود کسی معاشرہ میں حق کا پیمانہ بن جاتا ہے۔ اس لئے جو لوگ جھوٹی دین داری پر کھڑے ہوئے ہوں وہ چاہتے ہیں کہ ایسے پیمانے ٹوٹ جائیں جو ان کی دین داری کو مشتبہ ثابت کرنے والے ہیں۔ مگر اہل ایمان کے بد خواہ جو کچھ زور د دکھا سکتے ہیں اسی دنیا میں دکھا سکتے ہیں ۔ آخرت میں وہ ان کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکیں گے۔

منافق وہ ہے جو ظاہراً دیندار اور مگر از اندر سے بے دین ہو۔ ایسے شخص کا انجام کافر کے ساتھ ہونا بتایا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک ظاہر کوئی دین داری اور کسی سچی یا بے دینی میں کوئی فرق نہیں ، کیوں کہ ظاہر کی سطح پر خواہ دونوں مختلف نظر آئیں مگر باطن کی سطح پر دونوں ایک ہونے ہیں۔ اور اللہ کے یہاں اعتبار باطن کا ہے نہ کہ ظاہر کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page