یہ قیادت ہے، خدمت نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹
تذکیر القرآن النساء ۴ منافقین اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ اللہ ہی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں محض لوگوں کو دکھانے کے لئے۔ اور وہ اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ وہ دونوں کے بیچ لٹک رہے ہیں ، نہ ادھر ہیں اور نہ اُدھر ۔ اور جس کو اللہ بھٹکا دے تم اس کے لئے کوئی راہ نہیں پا سکتے ۔ اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر منکروں کو اپنا دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی کھلی حجت قائم کر لو ۔ بے شک منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں ہوں گے اور تم ان کا کوئی مددگار نہ پاؤ گے ۔ البتہ جو لوگ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کر لیں تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ ایمان والوں کو بڑا ثواب دے گا ۔ اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ ۔ اللہ بڑا قدرداں ہے سب کچھ جاننے والا ہے ۔ ۱۴۷ - جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے کئے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہو جاتے ہیں خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین ۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان کا عمل اللہ کے لئے نہیں ہوتا ۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے لئے ہوتا ہے ۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گو یا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں ۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں ، اس کے باوجود اپنے مفادات کو چھوڑنا نہیں چاہتے ۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں ، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے لئے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سے محروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے لئے اللہ کے راستہ پر چلنا ضروری ہے ۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی ــــ حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہو چکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ کسی کے قابل سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔
اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے ۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے۔ اس لئے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہو گا نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے ۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہو جاتا ۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں ، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو خدا کی طرف لائیں ، متوکل ہو کر خدا کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کر دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues