Al-Risala · July 1980 · page 45

البدر جولائی ۱۹۸۰

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۵

حضرت انس نے اپنے بچوں کو مخاطب کر کے کہا: اے میرے بچو، اس علم کو لکھوا لو (یا یعنی قید دا هذا العلم، دارمی) اس طرح کے واقعات بہت ہیں۔ مختصر مطالعہ کے لئے ملاحظہ ہو مقدمہ تحفہ الاحوذی مولفہ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کی مجلس میں بیٹھ کر آپ کے کلام کو لکھا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرووو ایک روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس اثنا میں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے لکھ رہے تھے (بینما نحن حول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نكتب ۔ ۔ ۔ دارمی) چونکہ آپ اپنی ہر بات ٹھہر ٹھہر کر اور اکثر دہر ا کر فرماتے تھے اس لئے سننے والوں کے لئے اس کو لکھ لینا کچھ مشکل نہ تھا۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ جو کچھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا اس کو لکھ لیتا (ابوداؤد) حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس لکھتے لکھتے احادیث کا ایک ذخیرہ جمع ہو گیا جس کا نام انہوں نے صادقہ رکھا۔ وہ کہتے ہیں: صادقہ وہ کتاب ہے جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر لکھا ہے (فاما الصادقة فصحيفة كتبتها من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) مجاہد بن ہلال تا بعی کہتے ہیں کہ حضرت انس سے جب لوگ کسی حدیث کی تحقیق کرتے تو وہ ایک دفتر نکال کر لاتے اور کہتے کہ یہ وہ احادیث ہیں جن کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر لکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بہت سی چیزیں بول کر لکھواتے تھے۔ احکام، معاہدے، خطوط، دستاویز وغیرہ ۔ اس قسم کی سیاسی دستاویزوں کو ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے جمع کر کے شائع کر دیا ہے ۔ ۱۷۲ خطوط و وثائق پر مشتمل اس کتاب کا نام مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ ہے۔ آپ کا اس طرح لکھوانا بکثرت روایات سے ثابت ہوتا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضہ کہتے ہیں کہ ابو شاہ یمنی نے درخواست کی کہ یہ خطبہ میرے لئے لکھوا دیا جائے۔ چنانچہ آپ نے اس خطبہ کو لکھ کر ان کے حوالے کیا (ابوداؤد) حضرت عمر بن حزم کو سنہ میں آپ نے نجران میں عامل بنا کر بھیجا۔ اس سلسلے میں حافظ بن حجر مالکی لکھتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کے لئے صدقات، دیت، فرائض اور سنن کے متعلق ایک تحریر لکھوائی (کتب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب الصدقات والدديات والفرائض والسنن لعمرو بن حزم وغيره ، جامع بیان العلم)

خلاصہ یہ کہ احادیث کو آپ کے زمانہ ہی میں ہزاروں جاں نثار اصحاب نے محفوظ کرنا شروع کر دیا تھا۔ کچھ لوگ زبانی یاد کر لیا کرتے تھے، کچھ لوگ لکھ کر محفوظ کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔ صحابہ کے ذریعہ یہ ذخیرہ احادیث تابعین کو منتقل ہوا اور پھر تبع تابعین کو۔ اس مدت میں نہ صرف کتابت کا اہتمام مسلسل جاری رہا بلکہ ایک مستقل علم حدیث وجود میں آیا جس کے تحت روایات اور راویوں کی فنی جانچ کی جانے لگی۔ یہاں تک کہ احادیث کا ذخیرہ ان مستقل کتابوں کی صورت میں باقاعدہ مدون ہو گیا جو آج ہمارے سامنے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ثابت شدہ احادیث اسی طرح قابل اعتبار ہیں جس طرح قرآن۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page