Al-Risala · July 1980 · page 44

البدر جولائی ۱۹۸۰

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم اس کی بھی نگرانی فرماتے تھے کہ آپ کا کلام محفوظ کرنے میں کسی نے غلطی تو نہیں کی ہے۔ ایک صحابی کو آپ نے بتایا کہ سوتے وقت تم یہ دعا پڑھ لیا کرو۔ جب آپ دعا کے کلمات بتا چکے تو ان سے کہا کہ اس کو دہراؤ۔ صحابی نے ایک کلمہ کو دہراتے ہوئے ذرا فرق سے اس طرح ادا کیا: آمنت بكتابك الذي انزلت وبرسولك الذي ارسلت۔ آپ نے فرمایا نہیں، اس طرح کہو : د بنيك الذي ارسلت۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے تھے خدا کی طرف سے فرماتے تھے۔ اس لئے آپ برابر لوگوں کو تلقین کرتے تھے کہ میری باتوں کو سن کر محفوظ رکھو اور ان کو تمام لوگوں تک پہنچا دو۔ آپ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اللہ اس بندہ کو تر و تازہ رکھے جس نے میری باتوں کو سنا پھر اس کو یاد کر لیا اور جس نے اس کو نہیں سنا ہے اس تک اس کو پہنچا دیا( نضر اللہ عبد اسمع مقالتی فوعا وا اداها الى من لم يسمعها، بخاری) حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ وفد عبد القیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، آپ نے اس کو دینی احکام بتائے اور اس کے بعد فرمایا : اس کو یاد کر لو اور ان لوگوں کو با خبر کر دو جو تمھارے پیچھے ہیں (احفظوه و اخبر وا من وراء کم ، بخاری) حجۃ الوداع کے خطبہ کے بعد آپ نے ایک لاکھ کے مجمع سے پوچھا: کیا میں نے تمھیں پہنچا دیا۔ لوگوں نے گواہی دی کہ ہاں آپ نے پہنچا دیا اور نصیحت کا حق ادا کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: سنو، جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچا دے، اس لئے کہ جس کو پہنچایا جائے ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ محفوظ کرنے والا ہو جس نے مجھ سے سنا ہے (الا ليبلغ الشاهد الغائب فلعل من يبلغه ان يكون ادعى له من بعض سمعه ، بخاری) آپ کی اس تلقین کی وجہ سے آپ کے اصحاب خصوصیت سے آپ کا کلام محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آپ کی باتوں کو سنتے اور جب آپ مجلس سے چلے جاتے تو ہم یک جا ہو کر آپ کی باتوں کا دور کرتے۔ ہم میں سے ہر شخص بارکا باری آپ کی سنی ہوئی باتوں کو دہراتا۔ جب ہم اس مجلس سے اٹھتے تو آپ کی باتیں ہم کو اس طرح یاد ہو جاتیں جیسے کہ وہ ہمارے دلوں میں بودی گئی ہیں (مجمع الزوائد)

روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو تلقین کرتے تھے کہ وہ آپ کا کلام لکھ لیا کریں اور آپ خود بھی اپنی ہدایات ان کو لکھوا کر دیتے ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے تھے اور آپ کی باتوں کو بہت پسند کرتے تھے مگر یاد نہیں رکھ پاتے تھے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی یاد داشت کی خرابی کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو اور اپنے ہاتھ سے لکھنے کی طرف اشارہ فرمایا (استعن بيمينك و اوما بيده ، تلخط، ترندی) حضرت عبداللہ بن عمر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم کو مقید کر لو۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ مقید کرنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا لکھ لینا (مجمع الزوائد) صحابہ نے آپ کی پیروی میں یہی نصیحت اپنے بعد والوں کو کی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page