انسان کی سب سے بڑی کم زوری
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۵
انسان کی سب سے بڑی کم زوری
ایک شخص کا کہنا تھا کہ دنیا میں صرف دکھ ہے۔ یہاں سکھ نام کی کوئی چیز نیہیں۔ ایک روز وہ اپنی بیوی کے ساتھ ناشتہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ گفتگو کے دوران میں نے اپنا خیال دہرایا۔ اس کے ہاتھ میں مکھن لگا ہوا ڈبل روٹی کا ٹکڑا تھا۔ اس نے کہا دنیا میں دکھ اتنا ز یادہ ہے کہ یہ ٹکڑا اگر میرے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرے تو وہ بھی مکھن کی طرف گرے گا۔ اس کی بیوی نے کہا کہ تمہارا خیال صحیح نہیں۔ یہاں دکھ سکھ دونوں ہیں۔ ڈبل روٹی کا ٹکڑا اگر زمین پر گرے تو ادھر بھی گر سکتا ہے جدھر مکھن لگا ہوا ہے اور ادھر بھی جس طرف مکھن لگا ہوا نہیں ہے، بحث ہوتی رہی۔ آخر بیوی نے کہا کہ چلو تجربہ کرلو۔ ڈبل روٹی کا ٹکڑا زمین پر گراؤ پھر دیکھو کہ وہ دونوں رخوں میں سے کس رخ پر گرتا ہے۔ آدمی نے ٹکڑے کو فضا میں اچھالا۔ وہ زمین پر گرا تو اتفاقاً برعکس صورت حال پیش آئی۔ ٹکڑے کا مکھن لگا ہوا رخ اوپر تھا۔ تجربہ نے عورت کی بات دو اور دو چار کی طرح ثابت کردی تھی۔ مگر یہ چیز آدمی کو چپ نہ کرسکی۔ اس نے فوراً کہا: بات یہ ہے کہ میں نے غلط رخ پر مکھن لگادیا تھا۔
یہ لطیفہ انسان کی نفسیات کو بہت خوبی کے ساتھ واضح کر رہا ہے۔ آدمی کسی بات کو اس وقت مانتا ہے جب کہ وہ خود بھی ماننا چاہے ۔ اگر وہ ماننا نہ چاہے تو آپ کسی بھی طرح اس کو منوا نہیں سکتے۔ ہر دلیل کے توڑ کے لئے وہ کچھ نہ کچھ الفاظ تلاش کرے گا۔ کوئی دلیل خواہ وہ کتنی ہی مضبوط ہو، آدمی کو چپ کرنے والی ثابت نہیں ہوسکتی۔ مشین میں آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ بٹن دبا کر مطلوبہ نتیجہ حاصل کرلیں۔ مگر انسان اس قسم کی کوئی مشین نہیں ہے۔ یہاں نتیجہ تمام تر خود "مشین" کے اپنے ہاتھ میں ہے نہ کہ آپ کے ہاتھ میں۔ دلیل کو بٹن کا مقام نہیں دیا جاسکتا۔ اور بلا شبہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہی ہے۔ جب کوئی بات سامنے لائی جائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی خالص اصلیت کے اعتبار سے اس کو دیکھے۔ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے۔ ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد بات کا صحیح یا غلط ہونا ہو نہ کہ دوسرے اعتبارات۔ یہی طالب حق کا طریقہ ہے۔ مگر آج صورت حال یہ ہے کہ ہر آدمی نے اپنے ذہن کو کہیں نہ کہیں باندھ رکھا ہے۔ وہ کسی نہ کسی جگہ اپنے کو چھپائے ہوئے ہے۔ اس کے فیصلے اسی چھپی ہوئی وفاداریوں کے تحت ہوتے ہیں نہ کہ حقیقتاً بے لاگ جائزہ کے تحت۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب کوئی بات سامنے آتی ہے تو آدمی ایک قسم کے منفی ردعمل کا اظہار کرتا ہے، وہ ایجابی رویہ ظاہر نہیں کر پاتا۔ وہ بات کو اس کی اصلیت کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے، اپنے تعصبات اور اپنی مصلحتوں کے تحت اس کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کا ذہن یا تو دلیل کے رخ پر چل پڑتا ہے یا تردید کے رخ پر۔ وہ تصدیق اور اعتراف کے رخ پر چلنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ جو بات آدمی کی پسند کے خلاف ہو، جس میں اس کی شخصیت چھوٹی ہورہی ہو اس کو وہ سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ وہ اس کو غیر موافقانہ ذہن کے ساتھ سنتا ہے اور فوری تاثر کے تحت ایک رائے قائم کرکے اس کو رد کر دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس نے ایک بات کو غلط پا کر اس کو رد کر دیا۔ حالانکہ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues