سنتِ رسول
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۲
سنتِ رسول
لا زلتم منصورین علی اعدائکم ما دمتم متمسکین تم اپنے دشمنوں پر اس وقت تک غالب رہو گے جب بسنتی فان خرجتم عن سنتی سلط الله علیکم تک میری سنت کو پکڑتے رہو گے۔ اور جب تم میری سنت من لا يخافکم ولا يرحمکم حتی تعودوا الى سنتی سے نکل جاؤ گے تو اللہ تمہارے اوپر ایسے کو مسلط کرے (رواه مسلم) گا جو نہ تم سے ڈرے گا اور نہ تم پر رحم کرے گا، یہاں تک کہ تم میری سنت کی طرف لوٹ آؤ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین چھوڑا ہے اس میں کوئی کمی نہیں جس کو کوئی پورا کرے۔ اس میں کوئی زیادتی نہیں جس کو کوئی اس سے دور کرے۔ یہ پوری طرح ایک کامل دین ہے۔ ہماری کامیابی کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اس کی اسی طرح پیروی کریں جیسا کہ وہ ہے، اگر ہم نے اس میں کمی بیشی کی کوشش کی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ باہمی اختلاف اور تصادم شروع ہو جائے گا۔ اور باہمی اختلاف ہی کا دوسرا نام کمزوری اور مغلوبیت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کچھ عقائد سکھائے ہیں ـــــــ خدا ایک ہے۔ مرنے کے بعد جنت اور دوزخ ہے۔ نبیوں پر خدا اپنے فرشتے کے ذریعہ اپنا کلام بھیجتا ہے، وغیرہ۔ ان عقائد کو ہمیں اسی طرح ماننا ہے جس طرح وہ قرآن اور حدیث میں آئے ہیں۔ اگر ہم اپنی طرف سے مو شگافیاں کریں اور نئی نئی کلامی بحثیں چھیڑیں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ مختلف لوگ مختلف باتیں نکالیں گے۔ رایوں کا اختلاف امت کے افراد کو ایک دوسرے سے ٹکرا دے گا۔ اسی طرح عبادت کے سلسلے میں آپ نے کچھ احکام بتائے اور ان کو کر کے دکھا دیا۔ اب ہمیں چاہئے کہ ان کو جیسا ہے ویساہی پکڑ لیں۔ اگر ہم نے عبادت میں نئے مسائل اور نئے طریقے نکالے تو اس کا لازمی نتیجہ فرقہ بندی ہوگا جو بالا خر امت کی کمزوری کا باعث بنے گا۔ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے تکلیف پہنچے تو آپ نے بتایا کہ صبر کرو اور اپنے بھائی کو معاف کر دو۔ اب اگر ایسے موقع پر ایک آدمی دوسرے آدمی سے بدلہ لینے اور اس کو اس کے کئے کا مزہ چکانے کے لئے کھڑا ہو جائے تو اس سے آپس کا ٹکراؤ وجود میں آئے گا اور بالآخر ساری امت کو کمزور کر دے گا۔ حکومت کے معاملات میں آپ نے یہ تعلیم دی کہ منصب کی خواہش نہ کرو۔ اب اگر لوگ عہدہ اور منصب کی خواہش کرنے لگیں تو باہمی رقابت اور دشمنی پیدا ہوگی۔ ملت کے اندر مختلف جتھے بن کر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے ۔ ملت خود اپنے افراد کے ہاتھوں برباد کی جانے لگے گی ۔ آپ نے یہ تعلیم دی کہ دنیا کو غیراہم سمجھو اور ساری توجہ آخرت کی طرف لگاؤ۔ اب اگر امت کے لوگ دنیا کی چیزوں کو اپنا مقصود سمجھ لیں تو ایک چیز کے کئی امیدوار بنیں گے اور اس کے حصول کے لئے باہم لڑنا شروع کر دیں گے۔ اس کے نتیجہ میں پورا مسلم معاشرہ حسد، بغض، نفرت اور انتقام کی آگ میں جل اٹھے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues