خدا کی موجودگی کا تجربہ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۵
خدا کی موجودگی کا تجربہ
اپالو ۱۵ میں امریکہ کے جو تین خلا باز چاند پر گئے تھے ، ان میں سے ایک کرنل جیمز ارون (James Irwin) تھے۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگست ۱۹۷۲ کا وہ لمحہ میرے لئے بڑا عجیب تھا جب میں نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔ میں نے وہاں خدا کی موجودگی (God’s Presence) کو محسوس کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری روح پر اس وقت وجدانی کیفیت طاری تھی اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا بہت قریب ہو۔ خدا کی عظمت مجھے اپنی آنکھوں سے نظر آ رہی تھی۔ چاند کا سفر میرے لئے صرف ایک سائنسی سفر نہیں تھا بلکہ اس سے مجھے روحانی زندگی نصیب ہوئی (ٹریبیون ، ۲۷ اکتوبر ۱۹۷۲)۔
کرنل جیمز ارون کا یہ تجربہ کوئی انوکھا تجربہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اتنا حیرتناک ہے کہ اس کو دیکھ کر آدمی خالق کی صناعیوں میں ڈوب جائے۔ تخلیق کے کمال میں ہر آن خالق کا چہرہ جھلک رہا ہے۔ مگر ہمارے گرد و پیش جو دنیا ہے اس کو ہم بچپن سے دیکھتے دیکھتے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہم اتنا مانوس ہو جاتے ہیں کہ اس کے انوکھے پن کا ہم کو احساس نہیں ہوتا۔ ہوا اور پانی اور درخت اور چڑیا غرض جو کچھ بھی ہماری دنیا میں ہے سب کا سب حد در جہ عجیب ہے ، ہر چیز اپنے خالق کا آئینہ ہے۔ مگر عادی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے عجوبہ پن کو محسوس نہیں کر پاتے۔ مگر ایک شخص جب اچانک چاند کے اوپر اترا اور پہلی بار وہاں کے تخلیقی منظر کو دیکھا تو وہ اس کے خالق کو محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے تخلیق کے کارنامہ میں اس کے خالق کو موجود پایا۔ ہماری موجودہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں یہاں بھی ” خدا کی موجودگی “ کا تجربہ اسی طرح ہو سکتا ہے جس طرح چاند پر پہنچ کر کرنل اِرون کو ہوا۔ مگر لوگ موجودہ دنیا کو اس استعجابی نگاہ سے نہیں دیکھ پاتے جس طرح چاند کا ایک نیا مسافر چاند کو دیکھتا ہے۔ اگر ہم اپنی دنیا کو اس نظر سے دیکھنے لگیں تو ہر وقت ہم کو اپنے پاس ” خدا کی موجودگی “ کا تجربہ ہو۔ ہم اس طرح رہنے لگیں جیسے کہ ہم خدا کے پڑوس میں رہ رہے ہیں اور ہر وقت وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔
اگر ہم ایک اعلیٰ درجہ کی مشین کو پہلی بار دیکھیں تو فی الفور ہم اس کے ماہر انجینئر کی موجودگی کو وہاں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم دنیا کو اور اس کی چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اسی وقت ہم وہاں خدا کی موجودگی کو پالیں گے۔ خالق ہم کو اس طرح نظر آئے گا کہ ہم خالق اور تخلیق کو ایک دوسرے سے جدا نہ کر سکیں۔ موجودہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھنے لگے ، وہ اپنے پاس خدا کی موجودگی کو محسوس کرے۔ اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو سورج کی سنہری کرنوں میں اس کو خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا ہرے بھرے درختوں کے حسین منظر میں وہ خدا کا روپ جھلکتا ہوا پائے گا۔ ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمس ربانی کا تجربہ ہو گا۔ اپنی ہتھیلی اور اپنی پیشانی کو زمین پر رکھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہو گا گویا اس نے اپنا وجود اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خدا ہر جگہ موجود ہے بشرطیکہ دیکھنے والی نگاہ آدمی کو حاصل ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues