Al-Risala · August 1980 · page 6

غلطی کر کے پلٹنا

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۶

غلطی کر کے پلٹنا

ایک مسافر کو کلکتہ جانا ہے، وہ ایک ٹرین میں سوار ہوتا ہے۔ مگر روانگی کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس گاڑی میں بیٹھا ہوا ہے وہ امرت سر جانے والی گاڑی ہے۔ ایسے مسافر کا حال کیا ہوگا ۔ وہ اپنی غلطی پر تڑپ اٹھے گا۔ جس سیٹ پر وہ اطمینان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہ اس کو کاٹنے لگے گی۔ اگلے اسٹیشن پر جیسے ہی گاڑی رکے گی وہ فوراً اتر پڑے گا تاکہ واپس جاکر اپنی مطلوبہ گاڑی پکڑ سکے۔

ٹرین کا ایک مسافر جس طرح فوراً اپنی غلطی کو مان کر پلٹ پڑتا ہے وہی حال مومن کا آخرت کے معاملہ میں ہوتا ہے۔ اس سے جب کوئی ایسی غلطی ہو جاتی ہے جو آخرت کے رخ سے بے رخ کرنے والی ہو، جو اس کو اگلی زندگی میں نقصان پہنچانے والی ہو تو وہ بے حد شرمندہ ہوتا ہے اس کو اپنی غلطی ماننے میں دیر نہیں لگتی۔ وہ غلط سمت سے لوٹ کر فوراً صحیح سمت میں چلنے لگتا ہے ۔

مومن وہی ہے جو غلطی کر کے پلٹ آئے۔ جو غصہ ہونے کے بعد معاف کر دے۔ عزت کا سوال جس کو اعتراف سے روکنے والا ثابت نہ ہو۔ اس کے برعکس جس کا حال یہ ہو کہ وہ غلطیوں میں لپٹا رہے۔ کسی سے ایک بار رنجش ہو جائے تو اس کو معاف کرنے کے لئے تیار نہ ہو، جو کسی حال میں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اقرار نہ کرے۔ ایسا شخص اللہ کی نظر میں مومن نہیں ہے، خواہ وہ اپنے کو کتنا ہی بڑا مسلمان سمجھتا ہو، خواہ اس نے ایمان و اسلام کے کتنے ہی تمغے اپنے اوپر لگا رکھے ہوں ۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنی غلطی کو ماننا نہ چاہے تو اس کو اپنی غلطی کی تاویل کے لئے بہت سے الفاظ مل جاتے ہیں۔ کسی کے لئے اس کی دنیوی شان و شوکت اس کی برائیوں کا پردہ بن جاتی ہے۔ مگر آخرت میں کوئی چیز کسی کے کام نہ آئے گی ۔ وہاں حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ اندھے بھی اس کو دیکھنے لگیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page