اسلام کی برتری
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۱۶
اسلام کی برتری
مریم جمیلہ ایک امریکی نومسلمہ ہیں۔ وہ امریکہ کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے مسلم ممالک کا سفر کیا۔ بالآخر ایک پاکستانی مسلمان سے شادی کرلی اور اب وہ پاکستان میں مقیم ہیں۔ ان کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے اسلام مغرب کے مقابلہ میں (Islam Versus The West)۔ اس کتاب میں وہ اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں :
یونیورسٹی کی تعلیم کے زمانہ میں میں نے ایک مضمون لیا جو "یہودیت اسلام میں" کہا جاتا تھا۔ میرا ربی پروفیسر اپنے طلبہ کو، جو سب کے سب یہودی ہوتے تھے، اس بات پر مطمئن کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ اسلام کا ماخذ یہودیت ہے ہماری نصابی کتاب میں قرآن کی ایک ایک آیت کو لے کر دکھایا گیا تھا کہ کس طرح وہ یہودی ذرائع علم پر مبنی ہے۔ پروفیسر کے لیکچر کے ساتھ ہم کو ایسے فلم اور سلائیڈ بھی دکھائے جاتے تھے جن میں صہیونیت اور یہودی ریاست کی تعریف ہوتی۔ اگر چہ پروفیسر کا حقیقی مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ اسلام پر یہودیت کی برتری ثابت کرے مگر میرے اوپر اس کا اثر بالکل الٹا پڑا ۔ جیسے جیسے میں نے قدیم عہد نامہ اور قرآن کا گہرا مطالعہ کیا، دونوں کا تضاد مجھ پر نمایاں ہوتا چلا گیا۔ ایک معنی میں قدیم عہد نامہ صرف یہودیوں کی تاریخ تھی جو خدا کے چنے ہوئے لوگ تھے۔ قرآن اگر چہ عربی زبان میں ایک عرب پیغمبر پر اترا ، اس کا پیغام ایک عالمی پیغام ہے جو تمام نسل انسانی کو خطاب کرتا ہے۔ جب میرے پروفیسر نے بتایا کہ فلسطین پر یہودیوں کا خدائی حق ہمیشہ سے یہودی شریعت کا مرکزی جزر رہا ہے تو مجھے خدا کے اس تنگ نظر عقیدہ سے بہت دھکا لگا۔ کیا قرآن یہ نہیں کہتا کہ: پورب پچھم سب خدا کے ہیں، تم جدھر بھی رخ کرو ادھر خدا موجود ہوگا۔ کیا پیغمبر اسلام نے نہیں کہا کہ تمام زمین خدا کی مسجد ہے۔ صہیونیت کہتی ہے کہ یہودیوں کا وطن صرف فلسطین ہے، دوسری جگہ وہ جلاوطن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرے پروفیسر کا دعویٰ کہ یہودی صرف فلسطین میں رہ کر انسانی تہذیب میں اپنا حصہ ادا کر سکتے ہیں بے بنیاد نظر آتا ہے، جب اس حقیقت کو دیکھا جائے کہ حضرت موسیٰ پر وحی مصر میں آئی۔ تالمود کے انتہائی اہم حصے اس سرزمین میں لکھے گئے جو آج عراق کہا جاتا ہے (صفحه ۴) اسلام اتنا برحق مذہب ہے کہ دوسرے مذہبوں سے اس کا سادہ تقابل ہی اس کی برتری ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ بائبل ایک قوم کی قومی تاریخ معلوم ہوتی ہے جب کہ قرآن میں عالمی انسانی پیغام ملتا ہے۔ یہودیت کے نزدیک سار ا مقدس بس فلسطین کی سر زمین میں ہے جب کہ اسلام کہتا ہے کہ ساری زمین خدا کی زمین ہے۔ یہودیت کے مطابق ان کے مذہب اور فلسطین کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا جب کہ خود حضرت موسیٰ کو خدا نے فلسطین سے باہر خطاب کیا اور یہودیوں کی مقدس مذہبی کتاب فلسطین کے باہر مرتب کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اتنا کامل اور اتنا برحق دین ہے کہ دوسروں کے سامنے صرف اس کو سادہ صورت میں پیش کر دینا کافی ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کو کسی ملاوٹ کے بغیر اس کی اصلی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔
الرسائل، اگست ۱۹۸۰ء
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues