الرسائل، اگست ۱۹۸۰ء
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۱۷
تذکیر القرآن المائدہ ۵ اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد ل اور ہم نے ان میں بارہ سردار مقرر کئے۔ اور اللہ نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز قائم کروگے اور زکوٰۃ ادا کروگے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤگے اور ان کی مدد کروگے اور اللہ کو قرض حسن دوگے تو میں تم سے تمہارے گناہ ضرور دور کردوں گا اور تم کو ضرور ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پس تم میں سے جو شخص اس کے بعد انکار کرے گا تو وہ سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔ پس ان کی عہدشکنی کی بنا پر ہم نے ان پر لعنت کردی اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔ اور جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ اور تم برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہ ہوتے رہتے ہو۔ بجز تھوڑے لوگوں کے۔ ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۱۲-۱۳ بنی اسرائیل سے ان کے پیغمبر کی معرفت خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا عہد لیا گیا اور ان کے بارہ قبائل سے بارہ سرداران کی نگرانی کے لئے مقرر کئے گئے۔ بنی اسرائیل سے جو عہد لیا گیا وہ یہ تھا کہ وہ نماز کے ذریعہ اپنے کو اللہ والا بنائیں۔ وہ زکوٰۃ کی صورت میں بندوں کے حقوق ادا کریں۔ پیغمبروں کا ساتھ دے کر وہ اپنے کو اللہ کی پکار کی جانب کھڑا کریں اور اللہ کے دین کی جدوجہد میں اپنا اثاثہ خرچ کریں۔ ان کاموں کی ادائیگی اور اپنے درمیان ان کی نگرانی کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے بعد ہی وہ خدا کی نظر میں اس کے مستحق تھے کہ خدا ان کا ساتھی ہو۔ وہ ان کو پاک صاف کر کے اس قابل بنائے کہ وہ جنت کی لطیف فضاؤں میں داخل ہوسکیں۔ جنت کسی کو عمل سے ملتی ہے نہ کہ کسی قسم کے نسلی تعلق سے۔
اس عہد میں جن اعمال کا ذکر ہے یہی دین کے اساسی اعمال ہیں۔ یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو خدا اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں بگاڑ آتا ہے تو وہ اس شاہراہ کے دائیں یا بائیں مڑ جاتی ہیں۔ اب یہ ہوتا ہے کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دین کا تصور بدل دیا جاتا ہے۔ عبادت کے نام پر غیر متعلق بحثیں شروع ہو جاتی ہیں۔ نجات کے ایسے راستے تلاش کر لئے جاتے ہیں جو بندوں کے حقوق ادا کئے بغیر آدمی کو منزل تک پہنچا دیں۔ دعوت حق کے نام پر ان کے یہاں بے معنی قسم کے دنیوی ہنگامے جاری ہوجاتے ہیں۔ وہ دنیوی اخراجات کی بہت سی مدیں بناتے ہیں اور انھیں کو دین کے لئے خرچ کا نام دے دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر وہ اپنے دنیوی مصالح کے مطابق ایک دین گھڑتے ہیں اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگتے ہیں۔ جب کوئی گروہ بگاڑ کی اس نوبت تک پہنچتا ہے تو خدا اپنی توجہ اس سے ہٹالیتا ہے۔ خدا کی توفیق سے محروم ہو کر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی زبان سمجھتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے تاکہ ان کو پکڑ کر خدا کی عدالت میں پہنچا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues