Al-Risala · January 1980 · page 37

قربانی کیا ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷

قربانی کیا ہے

قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تم دو، تاکہ جو کچھ تمہارے باہر ہے وہ تم کو مل سکے۔ قربانی اس بات کا سبق ہے کہ اگر تم کچھ پانا چاہتے ہو تو کھونے کا حوصلہ پیدا کرو۔ اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو تو موت کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ قربانی ایک بے روح رسم نہیں، قربانی ایک زندہ حقیقت ہے جو زندگی سے اسی طرح گہرا تعلق رکھتی ہے جس طرح قدرت کے ابدی قوانین ہماری کائنات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ قربانی عمل کا خاتمہ نہیں، عمل کا آغاز ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی چیز بھی بڑی چیز ہوتی ہے، کیوں کہ وہ کسی بڑی چیز کی علامت ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ قربانی کا ہے۔ یہ بظاہر ایک معمولی جانور کو خدا کے نام پر پیش کرنا ہے۔ مگر وہ ایک عظیم چیز ہے، کیوں کہ وہ ایک عظیم چیز کی علامت ہے نہ کہ محض ایک وقتی قسم کی بے روح اور بے معنی رسم۔ جانور کی قربانی آدمی کی طرف سے ایک عزم کی علامت ہے، یہ عزم کہ آدمی اپنا سب کچھ حتیٰ کہ اپنی جان بھی اعلیٰ تر مقصد کے لئے قربان کرے گا۔

ایک چھوٹی چیز کس طرح ایک بڑی چیز کی علامت بن جاتی ہے، اس کی وضاحت کے لئے میں قریبی تاریخ کی ایک مثال دوں گا۔ نومبر ۱۹۶۲ کا واقعہ ہے۔ ہندوستان کی مشرقی سرحد پر ایک پڑوسی طاقت کی جارحیت کی وجہ سے زبردست خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ سارے ملک میں سنسنی خیزی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ اس وقت قوم کی طرف سے جو مظاہرے ہوئے اس میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ احمد آباد کے ۲۵ ہزار نوجوانوں نے مشترکہ طور پر یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے بچاؤ کے لئے لڑیں گے اور ملک کے خلاف باہر کے حملہ کا مقابلہ کریں گے، خواہ اسی راہ میں ان کو اپنی جان دے دینی پڑے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے پاس سے ایک ایک پیسہ دیا اور اس طرح ۲۵ ہزار پیسے جمع کئے ۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے ان پیسوں کو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسہ دیتے ہوئے انھوں نے ہندوستانی وزیر اعظم سے کہا کہ یہ ۲۵ ہزار پیسے ہم ۲۵ ہزار نوجوانوں کی طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے (To give ourselves to you) کا نشان ہیں۔ ان نوجوانوں میں سے ہر ایک نے بظاہر صرف ایک پیسہ دیا تھا جس کی عام حالات میں کوئی قیمت نہیں۔ مگر ان کا پیسہ اس لئے انتہائی قیمتی ہو گیا کہ وہ ایک انتہائی بڑی حقیقت کی علامت تھا۔ ان کے ۲۵ ہزار پیسے ۲۵ ہزار زندگیوں کے نمائندہ تھے ۔ پیسہ کی صورت میں گویا وہ خود اپنی زندگیاں اپنے ملک کے لئے دے رہے تھے۔ انھوں نے علامتی طور پر ایک پیسہ قربان کرکے در حقیقت اپنی زندگی کو قربان کرنے کا عزم کیا تھا۔ اسی طرح جانور کی قربانی بھی دراصل ایک عزم کی علامت ہے، اس عزم کی کہ آدمی اپنا سب کچھ حتیٰ کہ اپنی جان بھی اعلیٰ تر خدا کی مقصد کے لئے قربان کر دے گا۔

یہ دنیا خدا نے اس ڈھنگ پر بنائی ہے کہ یہاں جو اپنے کو مٹاتا ہے وہی اس دنیا سے اپنے لئے پاتا ہے۔ قربانی اسی خدائی قانون کو یاد دلانے کا ایک سالانہ عمل ہے جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں شامل کر کے ہمیں دیا جاتا ہے۔ قربانی میں آدمی جانور کو خدا کے نام پر ذبح کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کے گوشت کو خود کھاتا ہے اور دوسروں کو کھلاتا ہے۔ خدا کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page