Al-Risala · January 1980 · page 48

قربانی کیا ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۸

چیز کو ایک روز خصوصی طور پر خدا کے نام پر قربان کرکے ، اس کو ایک اہم سبق دینے کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ قربانی گویا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی وہ قیمت دینے کے لئے تیار ہے جو خدا کی اس زمین میں ایک حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لئے، اسے دینا چاہئے۔

یہ قربانی دنیا کے عمومی نظام سے الگ کوئی چیز نہیں۔ وہ قدرت کا عالم گیر قانون ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھئے۔ درخت کے ایک بیج کو کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کر دیا جائے تو وہ ہمیشہ ایک بیج کی صورت میں پڑا رہے گا۔ مگر جب اس کو مٹی میں ڈال دیا جائے تو اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اب اس معمولی بیج کے اندر سے ایک ایسا درخت نکلتا ہے جو مزید بے شمار بیج پیدا کرتا ہے اور پیدا کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے ہرے بھرے وجود سے زمین کی رونق بن جاتا ہے۔ جس کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں جس سے طرح طرح کے مختلف فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ کولڈ اسٹوریج میں رکھے ہوئے بیج اور مٹی میں ڈالے ہوئے بیج کے انجام میں اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کو قربانی کہا جاتا ہے۔ مٹی کے بیج نے اپنے آپ کو فنا کر دیا۔ اس لئے وہ ایک عظیم درخت بن کر زمین پر قائم ہوگیا۔ اس کے برعکس کولڈ اسٹوریج کے بیج نے اپنے کو فنا نہیں کیا۔ اس لئے وہ غیر اہم ہوکر رہ گیا ایک بیج اپنے کو لٹاتا ہے تب وہ درخت بنتا ہے۔ درخت اپنے بہترین حاصل کو مٹاتا ہے تب وہ اپنی شاخ پر ایک پھول کھلانے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ پھول اپنے حسین وجود کو فنا کرتا ہے۔ تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک قیمتی پھل نکلے۔ پھل اپنے وجود کو ختم کرنے پر راضی ہوتا ہے تب ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس انسان کا گوشت اور خون بنے جو زمین کو آباد کرے اور خلا کے فاصلوں کو نا پے۔ ۔

دنیا میں انسان کے لئے جن کامیابیوں کے امکانات رکھے گئے ہیں ان سب کا زینہ صرف ایک ہے اور وہ قربانی ہے۔ علم میں کمال پیدا کرنا، تجارت میں اعلیٰ مقام پر پہنچنا، سیاست میں اونچا عہدہ حاصل کرنا، اخلاق اور انسانیت کے اعتبار سے ترقی کے درجات طے کرنا، ایک خاندان یا ایک قوم کو اونچا اٹھانا، سب قربانی کی راہ سے حاصل ہوتا ہے اس دنیا کے بنانے والے نے اس کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں کسی قسم کی کوئی کامیابی قربانی کی حد تک کوشش کئے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ بڑے بڑے الفاظ بول کر یا محض ادھر ادھر کی سرسری کارروائیاں کرکے کوئی بڑی ترقی حاصل کرلے تو یہ ایک ایسی خوش خیالی ہے جو خدا کی اس دنیا میں کبھی واقعہ نہیں بنتی۔ پھر ایک ایسی دنیا میں کیوں کر ممکن ہے کہ خدا قربانیوں کے بغیر کسی سے خوش ہوجائے۔ دنیا میں کسی چیز کو پانے یا نہ پانے کا ایک اصول مقرر کرکے گویا خدا نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ انسان کے لئے خدا کو پانے یا نہ پانے کا اصول کیا ہے۔ وہ صرف قربانی سے دنیا میں کسی چیز کو پانے کا شرط سردی خدا کو پانے کی شرط بھی ہے۔ آدمی اگر اپنے رب کو خوش کرنا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page