تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
تذکیر القرآن المائدہ ۵ پھر اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر راضی کر لیا اور اس نے اس کو قتل کر ڈالا۔ پھر وہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہو گیا۔ پھر خدا نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین میں کریدتا تھا تاکہ وہ اس کو دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے۔ اس نے کہا افسوس میری حالت پر کہ میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا۔ پس وہ بہت شرمندہ ہوا ۳۱۔ ۳۰ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لئے کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلنا اور اس کے نقصان کے درپے ہونا یا خدا کے منصوبہ کو باطل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ ایسا آدمی اگر چہ موجودہ امتحان کی دنیا میں ایک حد تک عمل کرنے کا موقع پاتا ہے۔ مگر خدا کی نظر میں وہ بدترین مجرم ہے۔ ہابیل نے اپنے بڑے بھائی کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ اس کے بعد اس کے دل میں جھجھک پیدا ہوئی ۔ اس کو محسوس ہوا کہ وہ واقعی بلا سبب اپنے بھائی کو مار ڈالنا چاہتا ہے۔ مگر اس کا حسد کا جذبہ ٹھنڈا نہ ہو سکا۔ اس نے اپنے ذہن میں ایسے عذر ات گھڑ لئے جو اس کے لئے اپنے بھائی کے قتل کو جائز ثابت کر سکیں۔ اس کی اندرونی کش مکش نے بالآخر خود ساختہ توجیہات میں اپنے لئے تسکین تلاش کر لی اور اس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا ۔ ضمیر کی آواز خدا کی ۔ آواز ہے۔ ضمیر کے اندر کسی عمل کے بارے میں سوال پیدا ہونا آدمی کا امتحان کے میدان میں کھڑا ہونا ہے۔ اگر آدمی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہے تو وہ کامیاب ہوا۔ اور اگر اس نے جھوٹے الفاظ کا سہارا لے کر ضمیر کی آواز کو دبا دیا تو وہ ناکام ہو گیا۔
حدیث میں ہے کہ زیادتی اور قطع رحم ایسے گناہ ہیں کہ ان کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہو جاتی ہے (ما من ذنب اجدر ان یجعل اللہ عقوبتہ فی الدنیا مع ما ید خر لصاحبہ فی الآخرة من البغی و قطیعة الرحم) قابیل نے اپنے بھائی کے ساتھ جو ناحق ظلم کیا تھا اس کی سزا اس کو نہ صرف آخرت میں ملی بلکہ اسی دنیا سے اس کا انجام شروع ہو گیا۔ مجاہد اور جبیر تابعی سے منقول ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا یہ حال ہوا کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے چپک گئی۔ وہ بے یارو مددگار زمین پر پڑا رہتا، یہاں تک کہ اسی حال میں ذلت اور تکلیف کے ساتھ مر گیا (ابن کثیر) قابیل کو کوے کے ذریعہ یہ تعلیم دی گئی کہ وہ لاش کو زمین کے نیچے دفن کر دے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انسان فطرت کے راستہ کو جاننے کے معاملہ میں جانور سے بھی زیادہ کم عقل ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے جذبات کے پیچھے چلتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں۔ نیز اس میں اس حقیقت کی طرف بھی لطیف اشارہ ہے کہ جرم سے پہلے اگر آدمی جرم کے ارادہ کو اپنے سینہ میں دفن کر دے تو اس کو شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دل کے احساس کو دل کے اندر دبائے، اس کو دل سے باہر اگر واقعہ نہ بننے دے۔ برے احساس کو دل کے باہر نکالنے سے پہلے تو صرف احساس کو دفن کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر اس نے اس کو باہر نکالا تو پھر ایک زندہ انسان کی لاش کو دفن کرنے کا مسئلہ اس کے لئے پیدا ہو جائے گا جو دفن ہو کر بھی خدا کے یہاں دفن نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues