Al-Risala · August 1980 · page 23

تذکیر القرآن المائدہ ۵

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳

تذکیر القرآن المائدہ ۵ اور ان کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ حق کے ساتھ سناؤ۔ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ اس نے کہا میں تجھ کو مار ڈالوں گا۔ اس نے جواب دیا کہ اللہ تو صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے۔ اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ توہی لے لے پھر تو آگ والوں میں شامل ہو جائے ۔ اور یہی سزا ہے ظلم کرنے والوں کی۔ 27-29 اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں ۔ آدم کے بیٹوں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لئے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر ہوئی ۔ قابیل نے بھی اپنی بھیڑ بکریوں میں سے کچھ اللہ کے لئے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا اور وہ خدا کی برکت پانے سے محروم رہا۔ یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لئے حسد پیدا ہو گیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمہاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے ۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے : وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے : یہ کہ جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کر دے۔

ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھاؤ ، میں تمہارے قتل کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے در پے ہو جائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے ۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کر کے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرے کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں ۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق کئے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔

دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے در پے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیا جاتا ہے جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page