Al-Risala · August 1980 · page 28

تذکیر القرآن المائدہ ۵

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸

وہ جھوٹ کے بڑے سننے والے ہیں، حرام کے بڑے کھانے والے ہیں۔ اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو خواہ ان کے درمیان فیصلہ کر دو یا ان کو ٹال دو۔ اگر تم ان کو ٹال دو گے تو وہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ کرو۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اور وہ کیسے تم کو حکم بناتے ہیں حالاں کہ ان کے پاس تو رات ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے ۔ اور پھر وہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں ۔ اور یہ لوگ ہرگز ایمان والے نہیں ہیں ۔ ۴۳-۴۲ حرام (سُحت) سے مراد رشوت ہے۔ رشوت کی ایک عام شکل وہ ہے جو براہ راست اسی نام پر لی جاتی ہے۔ چنانچہ یہودی علماء میں ایسے لوگ تھے جو رشوت لے کر غلط مسائل بتایا کرتے تھے۔ تاہم رشوت کی ایک اور صورت وہ ہے جس میں براہ راست لین دین نہیں ہوتا مگر وہ تمام رشوتوں میں زیادہ بڑی اور زیادہ قبیح رشوت ہوتی ہے۔ یہ ہے دین کو عوامی پسند کے مطابق بنا کر پیش کرنا تاکہ عوام کے درمیان مقبولیت ہو، لوگوں کا اعزاز و اکرام ملے، لوگوں کے چندے اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔

دین کو اس کی بے آمیز صورت میں پیش کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی عوام کے اندر نا مقبول ہو جائے۔ اس کے برعکس دین کو اگر ایسی صورت میں پیش کیا جائے کہ زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی بھی نہ کرنا پڑے اور آدمی کو دین بھی حاصل رہے تو ایسے دین کے گرد بہت جلد بھیڑ کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے ۔ وہ دین جس میں اپنی دنیا پرستانہ زندگی کو بدلے بغیر کچھ سستے اعمال کے ذریعہ جنت مل رہی ہو۔ وہ دین جو قومی اور مادی ہنگامہ آرائیوں کو دینی جواز عطا کرتا ہو۔ وہ دین جس میں یہ موقع ہو کہ آدمی اپنی جاہ پسندی کے لئے سرگرم ہو، پھر بھی وہ جو کچھ کرے سب دین کے خانہ میں لکھا جاتا رہے۔ جو لوگ اس قسم کا دین پیش کریں وہ بہت جلد عوام کے اندر محبوبیت کا مقام حاصل کر لیتے ہیں۔

یہود کے قائدین اِسی قسم کا دین چلا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے ۔ وہ عوام کو ان کا پسندیدہ دین پیش کر رہے تھے اور عوام اس کے معاوضہ میں ان کو مالی تعاون سے لے کر اعزاز و اکرام تک ہر چیز نثار کر رہے تھے۔ ایسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچے دین کی آواز بلند کرنا ان کو ناقابلِ برداشت معلوم ہوا۔ کیوں کہ یہ ان کے مفادات کے ڈھانچے کو توڑنے کے ہم معنی تھا، آپ سے ان کو اتنی ضد ہو گئی کہ آپ کے متعلق کسی اچھی خبر سے ان کو کوئی دلچسپی نہ رہی۔ البتہ اگر وہ آپ کے بارے میں کوئی بری خبر سنتے تو اس میں خوب دل چسپی لیتے اور اس میں اضافہ کر کے اس کو پھیلاتے۔ جن لوگوں میں اس قسم کا بگاڑ آجائے ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر وہ دینی فیصلہ لینے کی طرف رجوع بھی ہوتے ہیں تو اس امید میں کہ فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ جانتے ہوئے کہ یہ خدا ورسول کا فیصلہ ہے اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرنا محض ایک فیصلہ کو نہ ماننا نہیں ہے بلکہ خود ایمان و اسلام کا انکار کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page