تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹
بے شک ہم نے تورات اتاری ہے جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق خدا کے فرماں بردار انبیاء یہودی لوگوں کا فیصلہ کرتے تھے اور ان کے درویش اور علماء بھی۔ اس لئے کہ وہ خدا کی کتاب پر نگہبان ٹھہرائے گئے تھے۔ اور وہ اس کے گواہ تھے۔ پس تم انسانوں سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کو متاع حقیر کے عوض نہ بیچو۔ اور جو کوئی اس کے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں۔ اور ہم نے اس کتاب میں ان پر لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلا ان کے برابر۔ پھر جس نے اس کو معاف کر دیا تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے۔ اور جو شخص اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا تصدیق کرتے ہوئے اپنے سے قبل کی کتاب تورات کی اور ہم نے اس کو انجیل دی جس میں ہدایت اور نور ہے اور وہ تصدیق کرنے والی تھی اپنے سے اگلی کتاب تورات کی اور ہدایت اور نصیحت ڈرنے والوں کے لئے۔ اور چاہئے کہ انجیل والے اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں اتارا ہے۔ اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا تو وہی لوگ نافرمان ہیں 44-47 - ۴۷ خدا کی کتاب اس لئے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگر یہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات و نزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے کو مسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔
قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کئے بغیر اس کا نفاذ کیا جائے۔ تا ہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کر دے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لئے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی نصاپید کرنے کا ذریعہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues