Al-Risala · August 1980 · page 34

روزہ کس کے لئے

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۴

یہی تکبیر ہے جو زبان سے اللہ اکبر کی صورت میں نکلتی ہے اور عمل سے اپنی انا کو ختم کر دینے کی صورت میں ۔ آدمی کی پوری زندگی اس بات کا امتحان ہے کہ وہ کس کو بڑا بناتا ہے، خدا کو یا اپنے آپ کو۔ اپنے کو بڑا بنانے والے کے اندر گھمنڈ کی نفسیات پرورش پاتی ہیں اور خدا کو بڑا بنانے والے کے اندر تواضع کی نفسیات ۔ جو شخص خدا کو اپنا بڑا بنائے اس کے اندر سے انانیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کی پوری ہستی خدا کے آگے جھک جاتی ہے۔ خدا کی عظمت کا تصور اس کے اوپر اتنا چھا جاتا ہے کہ اپنی ہستی اس کو بالکل بے قیمت دکھائی دینے لگتی ہے۔ ایسے شخص نے جب کسی کا معاملہ پڑتا ہے تو وہ "عبد" کی طرح اس سے معاملہ کرتا ہے نہ کہ "معبود" کی طرح۔ وہ خدا کے بندوں کے مقابلہ میں سرکشی نہیں دکھاتا۔ وہ بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کرتا ، اس کو دولت یا عہدہ یا حیثیت کا کوئی حصہ مل جائے تو وہ اپنے کو دوسروں سے بڑا نہیں سمجھتا۔ اللہ کو اپنا بڑا بنانا اللہ کے سامنے ذکر اور عبادت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور بندوں کے سامنے تواضع اور بے نفسی کی صورت میں۔

روزہ ایک ایسا تجربہ ہے جو بالاخر " افطار " تک پہنچاتا ہے۔ بھوک کا لمبا وقفہ گزار کر آدمی اپنے آپ کو کھانے اور پانی سے سیراب کرتا ہے۔ اس طرح وہ خدا کی نعمتوں کے بارے میں اپنے اندر شکر کے احساس (بقرہ ۱۸۵) کو جگاتا ہے۔ وہ عمل کی زبان میں اپنے آپ کو بتاتا ہے کہ خدا کی وہ عنایات کتنی بڑی ہیں جو روزانہ اس کو خدا کی طرف سے ملتی رہتی ہیں۔ روزہ کے مہینہ میں قرآن کا اتارنا اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ قرآن بھی تمہارے لئے ایک خدائی افطار کا انتظام ہے تم ہدایت کے معاملہ میں بھوکے تھے۔ خدا نے اپنی نعمت ہدایت سے تم کو سیراب کیا۔

اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ اس کو بہترین صلاحیتیں عطا کیں ۔ دنیا میں اعلیٰ ترین انتظام کر کے یہاں اس کو بسایا۔ اس کے لئے ایک ابدی جنت بنائی اور اپنی کتاب کے ذریعے پیشگی بتا دیا کہ اس جنت تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے ۔ جس خدا کے اتنے احسانات ہوں اس کے ساتھ آدمی کا تعلق ایسا ہونا چاہئے کہ اس کا تصور اس کی روح کو سرشار کر دے۔ اس کی یاد آتے ہی قلب و دماغ شکر کے سجدہ میں گر پڑیں۔ زبان پر اس کی احسان مندی کے نغمے جاری ہوں۔ اس کی اندرونی ہستی اس کے احسانات کے اعتراف سے بھر جائے ۔ اس کی عملی زندگی ایسی گزرے گویا کہ وہ خدا کے انعام و احسان کی بارش میں نہائی ہوئی ہے ۔ تقویٰ اور تکبیر اور تشکر کا یہ ثبوت جو بندے کو دینا ہے وہ بہت بڑی قیمت مانگتا ہے، وہ اپنے نفس اور مفادات کی قربانی ہے۔ اس پر آدمی اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب کہ اس کا ایمان اس کے لئے حقیقی معنوں میں یقین و اعتماد کے ہم معنی بن گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page