روزہ کس کے لئے
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳
روزہ کس کے لئے
سورہ بقرہ رکوع ۲۳ میں رمضان کے روزوں کا بیان ہے۔ روزہ کے احکام بتاتے ہوئے درمیان میں ارشاد ہوا ہے : اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں نزدیک ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ پس چاہئے کہ وہ میری پکار کا جواب دیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ امید ہے کہ وہ بھلائی کو پالیں گے (بقرہ ۱۸۶) گویا خدا سے پانے کے لئے بندہ کو بھی خدا کو کچھ دینا ہے۔ روزہ اسی ”دینے“ کے عمل کی ایک علامت ہے۔ روزہ میں آدمی خدا کی خاطر اپنا کھانا پانی چھوڑ دیتا ہے جو آدمی کی آخری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ اس بات کا ایک سبق ہے کہ دنیا کی زندگی میں آدمی کو جو کچھ اپنے رب کے سامنے پیش کرنا ہے اس کا سلسلہ ناگزیر ضروریات تک پہنچتا ہے۔ روزہ یہ پیغام دیتا ہے کہ آدمی خود ”بھوکا“ رہ کر اپنی متاع کو خدا کے حضور نذر کردے ۔
روزہ عمل کا خاتمہ نہیں بلکہ عمل کا آغاز ہے۔ روزہ دار کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اللہ کے لئے وقف کردے۔ اس کو اپنے بیوی بچوں کی امنگوں میں کمی کرکے دین کے تقاضے پورے کرنا ہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی یہاں تک مختصر کرنی پڑے کہ بہت سی ضروری چیزوں سے اس کے لئے ”فاقہ“ کرنے کی نوبت آجائے۔ اگر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو وہ سب کچھ ملے جو خدا کے پاس ہے تو اس کو بھی وہ سب کچھ دینا پڑے گا جو اس کے پاس ہے۔ ”سب کچھ“ دے کر ہی سب کچھ ملتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ جس طرح رمضان کے مہینہ میں خدا روزہ کے لئے پکارتا ہے اسی طرح سال بھر اس کی پکار بلند ہوتی رہتی ہے۔ آدمی کے سامنے ناجائز کمائی کی صورتیں آتی ہیں، اس وقت خدا پکارتا ہے کہ اے میرے بندے ناجائز کمائی کو چھوڑ کر جائز کمائی پر قناعت کر کسی بھائی کے خلاف اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑکتی ہے، اس وقت خدا پکارتا ہے کہ میرے بندے تو اس کو معاف کردے۔ حق کو ماننے میں مفاد یا عزت نفس کا سوال رکاوٹ بنتا ہے ، اس وقت خدا پکارتا ہے کہ میرے بندے تو کسی مصلحت کی پروا کئے بغیر حق کو مان لے۔ اسی طرح زندگی کے ہر موقع پر خدا اپنے بندوں کو پکارتا ہے۔ اب جو شخص ان مواقع پر وہی کرے جو اس کا خدا اس سے چاہتا ہے تو اس نے خدا کی پکار پر لبیک کہا۔ اسی کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے (بقرہ - ۱۸۳)
روزہ کا عمل اللہ کو بڑا بنانا ہے (بقرہ ۱۸۵) کی ایک علامت ہے۔ اللہ کے حکم سے آدمی اپنے ایک ایسے تقاضے پر پابندی لگا لیتا ہے جو اس کی زندگی کا سب سے زیادہ ضروری تقاضا ہے۔ یہ عمل کی زبان میں اس بات کا عہد ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا ”کبیر“ اور اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں ”صغیر“ بنائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues