عقلیت کا فریب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶
حقائق کی بنیاد پربنا ہے۔ یہاں کامیابی اس کے لئے ہے جو ایک عملی انسان کی طرح حقائق کی پیروی کرے۔ جو شخص موشگافیوں میں الجھے اس کے لئے یہاں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔
ایک نوجوان نے بی اے کیا۔ مگر اپنے قریب اس کو کوئی ملازمت نہیں ملی۔ اس نے طے کیا کہ وہ باہر کے کسی شہر میں جائے اور وہاں اپنے لئے روزگار تلاش کرے۔ بالآخر ایک روز صبح کو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں بمبئی جا رہا ہوں۔ اب میں اس وقت تک نہیں آؤں گا جب تک اپنے لئے کوئی کام حاصل نہ کر لوں۔
دادی نے کہا آج شُبھ ساعت نہیں ہے۔ تم کو جانا ہی ہے تو کسی اور دن جانا۔ ماں نے کہا کہ آج کل ریلوے میں ایکسیڈنٹ کی خبریں آرہی ہیں، آج کل اتنا لمبا سفر کرنا ٹھیک نہیں۔ باپ نے کہا کہ بمبئی میں ان دنوں برسات کا موسم چل رہا ہے اور وہاں برسات کے موسم میں کام بہت کم ہو جاتا ہے۔ چھوٹے بھائی نے کہا کہ آپ چلے جائیں گے تو محلہ کے لڑکے ہم کو ماریں گے۔ آپ کی وجہ سے وہ سب ڈرتے تھے۔ نوجوان اگر اپنے گھر والوں کی ان باتوں پر دھیان دیتا تو ان میں سے ہر بات اس کو سفر سے روکنے کے لئے کافی تھی۔ مگر اس نے ان میں سے کسی بات پر سرے سے غور ہی نہیں کیا۔ اس نے سب باتوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک بات اپنے سامنے رکھی: مجھے بمبئی جانا ہے اور وہاں اپنے لئے روزگار حاصل کرنا ہے۔ وہ سب کو سلام کر کے تیزی سے اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔ اور ٹرین میں سوار ہو کر بمبئی پہنچ گیا۔ بمبئی میں اس کو اتنے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے گھر والوں کے بدترین اندیشوں سے بھی کہیں زیادہ تھے۔ تاہم اس کے عزم اور اس کی جدوجہد نے مشکل آسان کردی۔ آج وہ ایک بڑی تجارتی فرم میں اعلیٰ عہدہ پر ہے اور اپنے گھر والوں کو لے کر ایک شان دار مکان میں کامیاب زندگی گزار رہا ہے۔ یہی مثال ہر معاملہ پر صادق آتی ہے حتیٰ کہ دینی معاملات پر بھی۔ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو کچھ اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں ہر کام میں موافق امکان کے ساتھ ناموافق امکان چھپا ہوا ہے۔ ہر یقین کے ساتھ ایک شبہ کا پہلو لگا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ انسان کی عقل تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لئے قطعا ناکافی ہے۔ کوئی آدمی اگر اس پر اصرار کرے کہ وہ سارے پہلوؤں کو عقل کی گرفت میں لانے کے بعد اس کی طرف اقدام کرے گا تو ایسا شخص کبھی کوئی اقدام نہیں کر سکتا۔ ہر آدمی کو لازماً یہ کرنا پڑتا ہے کہ کسی معاملہ میں جب وہ بنیادی پہلوؤں کے اعتبار سے مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اپنا دماغ غیر ضروری بحثوں میں نہیں الجھاتا۔ وہ بے شمار غیر حل شدہ پہلوؤں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ آدمی اگر ایسا نہ کرے تو موجودہ دنیا میں وہ کسی بھی قسم کا کوئی کام نہیں کر سکتا۔
یہی بات قرآن سے ہدایت لینے کے لئے بھی درست ہے۔ قرآن بلا شبہ ہدایت کی کتاب ہے۔ اس میں روشنی اور سکون ہے۔ مگر جو شخص قرآن کا طالب ہو اس کو یہ نہ بھولنا چاہئے کہ وہ آخرت کی دنیا میں نہیں اتری ہے بلکہ ہماری موجودہ دنیا میں اتری ہے جو امتحان اور آزمائش کی دنیا ہے۔ اس کا مطالعہ کرنے والا اپنی اس محدود عقل کے ساتھ اس کا مطالعہ کر رہا ہے جو موجودہ دنیا میں اس کو حاصل ہے نہ کہ اس عقل سے جو اس کو آخرت کے لامحدود عالَم میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues