عقلیت کا فریب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷
حاصل ہوگی۔ اس صورتِ حال کا لازمی نتیجہ ہے کہ قرآن میں آدمی کو اگر ایسی باتیں ملیں جو سمجھ میں آتی ہوں تو اسی کے ساتھ اس کے سامنے ایسی باتیں آئیں جو بظاہر سمجھ میں نہ آرہی ہوں ۔ اگر اس کو یقین کے صفحات پڑھنے کو ملیں تو اسی کے ساتھ وہ ایسے صفحات کبھی پڑھے جوکہ پردے والے ذہن کو بے یقینی میں مبتلا کرنے والے ہوں۔ موجودہ عقل اور موجودہ دنیوی حالات کی بنا پر ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ کیونکہ بھی تو آدمی کا امتحان ہے۔ دنیوی کامیابی اس بات کا امتحان ہے کہ وہ کون شخص ہے جو راستے کے "کانٹوں"، کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے اور وہ کون شخص ہے جو "کانٹوں"، میں الجھ کر اپنے سفر کو چھوٹا کر لیتا ہے۔ اسی طرح اخروی کامیابی بھی اس بات کا امتحان ہے کہ حقیقی عقلمند اور جھوٹے عقلمند کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے ۔ حقیقی عقلمند وہ ہے جو بے فائدہ سوالات میں نہ الجھے اور تمام ناموافق باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھے۔ اس کے برعکس جھوٹا عقلمند وہ ہے جو بے فائدہ موضوعاتوں کو حل کرنے میں لگا رہے، جو اس پر اصرار کرے کہ وہ مکمل عقلی اطمینان کے بعد قرآن کو قرآن سمجھے گا۔ ایسا آدمی بھی قرآن کو نہیں پاسکتا۔ شبہات کے باوجود یقین کا درجہ حاصل کرنا ہی سی آدمی کو کامیاب بناتا ہے، موجودہ دنیا میں یہی اور آخرت کی دنیا میں بھی۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ موجودہ دنیا میں التباس (انعام ۹) کا قانون جاری ہے۔ یعنی یہاں حقیقتوں کو کھولنے کے باوجود ان کے اوپر شبہ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ شبہات میں نہ پڑے بلکہ عقل سے صحیح کام لیتے ہوئے حقائق کو اپنی روح کی غذا بنائے۔ اگر آدمی یہ اصرار کرے کہ شبہات کا پردہ اس کے لئے پھٹ جائے اور وہ "مکمل عقلی اطمینان"، کے ساتھ حقیقتوں کو پاسکے تو ایسا مکمل عقلی اطمینان یہاں کبھی ممکن نہ ہوگا۔ اس قسم کا عقلی اطمینان و تلاش کرنے والے کے لئے اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں۔ ایسے مزاج کے تحت یہاں نہ کوئی لادینی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ کوئی دینی کامیابی ۔ جو چیز خدا نے اپنی دنیا میں نہ بنائی ہو وہ آپ اس کی دنیا میں حاصل نہیں کر سکتے ۔ آپ قدرت کے نظام سے صرف مطابقت کر سکتے ہیں ، اس کے خلاف اپنی راہ نہیں بنا سکتے۔
ایک طالب علم امتحان ہال میں بیٹھا ہوا ہے اس کے سامنے امتحان کا پرچہ آتا ہے، پرچہ میں ایک مسئلہ مبہم شکل میں درج ہے۔ وہ اس طرح واضح صورت میں درج نہیں جیسا کہ ایک باقاعدہ کتاب میں ہوتا ہے ۔ اب اگر وہ مطالبہ کرے کہ امتحان کا پرچہ مبہم شکل میں لینا مجھے منظور نہیں۔ میں تو اس کو اس وقت لوں گا جب کہ وہ مجھے کتاب کی کسی واضح صورت میں ملے تو ایسا مطالبہ کبھی منظور نہیں کیا جائے گا۔ قرآن کی مثال بھی جزئی طور پر اسی قسم کی ہے۔ قرآن بلاشبہ کتاب ہدایت ہے مگر اسی کے ساتھ وہ ہمارے امتحان کا پرچہ بھی ہے۔ ہمیں قرآن سے رہنمائی بھی حاصل کرنا ہے اور اسی کے ساتھ یہ ثبوت بھی دینا ہے کہ ہم غیب کا پردہ باقی رہتے ہوئے خدا کو پاسکتے ہیں۔ شبہات کا غبار رہتے ہوئے بھی یقین کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ حقیقت سے دور ہوتے ہوئے بھی اس سے قربت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ یہی تو آدمی کا امتحان ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو امتحان کس بات کا ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues