”جب تک سورج چاند رہے، سینچے تیرا نام رہے۔ “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۹
کے درمیان حائل ہو جاتی ہے، گویا کہ وہ اس کا میابی کی نفی کر رہی ہو جس کو آدمی اپنے لئے کامیابی سمجھ کر اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
آدمی زندگی چاہتا ہے مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف موت ہے جو اس کا استقبال کرنے کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ ۲۴ جون کی شام کو ایک طرف شانتی ون میں سینچے کا ندھی کا مردہ جسم جلایا جا رہا تھا، دوسری طرف وہاں کھڑے ہوئے ان کے ہزاروں معتقدین یہ نعرہ لگا رہے تھے:
”جب تک سورج چاند رہے، سینچے تیرا نام رہے۔ “
انسان ”سورج چاند کے رہنے تک“ زندہ رہنا چاہتا ہے مگر موت اس قدر بے رحمی کے ساتھ اس کو اس دنیا سے اٹھا لیتی ہے جیسے اس کے نزدیک نہ انسان کی کوئی اہمیت ہے اور نہ اس کی خواہشوں کی۔ انسان اپنی عظمت کا قلعہ تعمیر کرتا ہے مگر موت کا طوفان اس کو تنکوں کی طرح اڑا کر یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کوئی قدرت حاصل نہیں۔ انسان کہتا ہے کہ میں اپنا مالک ہوں مگر تقدیر اس کو کچل کر بتاتی ہے کہ تیرا مالک کوئی اور ہے۔ انسان موجودہ دنیا میں اپنی آرزوؤں کا باغ اگانا چاہتا ہے مگر موت اس کے منصوبہ کو خاک میں دیتی ہے کہ اپنے لئے دوسری دنیا تلاش کرو کیونکہ موجودہ دنیا میں تمہاری آرزوؤں کی تکمیل ممکن نہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا سبق وہ ہے جو موت کے ذریعہ ملتا ہے۔ موت ہماری زندگی کی سب سے بڑی معلم ہے۔ موت ہر آدمی کو ایک ایسے سوال کے بارہ میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے جس کے جواب میں زندگی کا تمام راز چھپا ہوا ہے۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ ہم اپنے مالک آپ نہیں ہیں۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں ہماری زندگی محض عارضی زندگی ہے۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا وہ مقام نہیں جہاں ہم اپنی تمناؤں کو حاصل کرنے کی امید کر سکیں۔ موت دراصل زندگی کا پیغام ہے۔ موت ہم کو جینا سکھاتی ہے۔ موت ہم کو بتاتی ہے کہ اپنی حقیقی زندگی کی تعمیر کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
موت انسانی زندگی کا سب سے زیادہ عبرت ناک واقعہ ہے۔ وہ آدمی کو آسمان میں اٹھا کر زمین پر گرا دیتی ہے وہ آدمی کو زمین پر ختم کر کے اس کی راکھ کو ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ موت کے سامنے ہر آدمی بالکل بے بس ہے، موت کے سامنے کسی بھی شخص کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ واقعہ ہماری زمین پر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں پیش آتا ہے۔ مگر انسان غفلت کی ایسی شراب پئے ہوئے ہے کہ اس کے باوجود اس کی مدہوشی ختم نہیں ہوتی۔ آدمی دوسرے کو مٹانے کا منصوبہ بناتا ہے حالاں کہ موت خود اس کو مٹانے کے لئے اس کے پیچھے کھڑی ہوئی ہے۔ آدمی دوسرے کو برباد کرنے کی سازشیں کرتا ہے حالاں کہ اپنی سازش کی تکمیل سے پہلے وہ خود موت کا شکار ہو جاتا ہے۔ آدمی دوسرے کا اعتراف نہیں کرتا، وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنی بڑائی کا تحفظ کر رہا ہے۔ حالاں کہ اگلے ہی لمحہ موت آکر اس کی بڑائی کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ انسان ”خدا“ بننا چاہتا ہے مگر موت اس کو بتاتی ہے کہ وہ صرف ایک بے قیمت ”آدمی“ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues