Al-Risala · August 1980 · page 30

امتِ مسلمہ کی طاقت: اتحاد

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰

امتِ مسلمہ کی طاقت: اتحاد

قرآن میں تکمیل دین کی آیت کے تحت ارشاد ہوا ہے کہ آج کفر کرنے والے لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے، اب تم ان سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھ سے ڈرو (مائدہ ۳) یہ آیت حجتہ الوداع کے موقع پر10ھ میں نازل ہوئی۔ اس کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد کے بعد اسلام کی تاریخ جہاں پہنچ چکی ہے وہ اتنی مضبوط ہے کہ اسلام اب اپنی ذاتی بنیادوں پر قائم ہو گیا ہے۔ اب اسلام بیرونی خطرات کی زد سے نکل گیا ہے، اب اس کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے تو اندر کی طرف سے نہ کہ باہر کی طرف سے۔ مذکورہ آیت میں امتِ مسلمہ کے لئے اللہ کا یہ کھلا ہوا وعدہ ہے کہ اب اس کے لئے تشویش کی بات یہ نہیں ہے کہ اس کے اوپر اس کے دشمن غلبہ پا لیں۔ بلکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ امت کے افراد میں اللہ کا ڈر باقی نہ رہے۔ اب مسلمانوں کے لئے کمزوری کی بات خوفِ خدا کا نہ ہونا ہے نہ کہ کسی خارجی قوت کے مقابلہ میں ان کا کمزور ہونا۔ یہ اعتقادی بات نہیں ہے بلکہ وہ معلوم حقائق پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کے معاملہ کو اللہ نے یہاں تک پہنچایا کہ زمین کے بڑے رقبہ پر ان کا قبضہ ہو گیا۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی کہ وہ اس اندیشہ سے باہر نکل گئے کہ محض تعداد کی کمی کی وجہ سے وہ کسی کے مقابلہ میں شکست کھا سکیں۔ ان کے پاس بہترین اقتصادی خطے ہیں۔ انتہائی اہم فوجی مقامات پر ان کا قبضہ ہے۔ ہر قسم کی صلاحیتوں والے افراد رات دن ان کے یہاں پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کو ایک ایسی کتاب حاصل ہے جو ان کو ساری دنیا میں فکری برتری عطا کر سکے۔ ان کی تاریخ اتنی شان دار ہے جو قیامت تک ان کی نسلوں کو جوش و ولولہ کی خوراک دینے کے لئے کافی ہے۔

جس قوم کے پاس برتری کے اتنے اسباب جمع ہو جائیں باہر کی کوئی قوم اس کو زیر کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی، الا یہ کہ اس نے اپنی حماقت سے اپنے کو کمزور کر لیا ہو اور یہ حماقت دراصل اندرونی اختلاف ہے قوم کے افراد جب اللہ سے ڈرنے والے ہوں تو وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ وہ انصاف کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ حسد اور بغض کی نفسیات سے پاک ہوتا ہے۔ اور جس معاشرہ کا یہ حال ہو اس میں باہمی اتحاد کے سوا کیا چیز جنم پائے گی۔ اس کے برعکس جب قوم کے افراد اللہ سے بے خوف ہو جائیں تو ہر ایک دوسرے کی کاٹ میں لگ جاتا ہے۔ ہر آدمی خود غرضی کے خول میں سمٹ جاتا ہے۔ بدخواہی، انتقام اور حسد سے پورا معاشرہ کھوکھلا ہو جاتا ہے ـــــــــــــ اللہ کا ڈر اتحاد کی فضا پیدا کرتا ہے جو سب سے بڑی طاقت ہے۔ اللہ سے ڈر نہ ہو جانا اختلاف پیدا کرتا ہے اور جو قوم باہمی اختلافات کی شکار ہو جائے وہ لازماً کمزور ہو جاتی ہے خواہ اس کی تعداد بظا ہر کتنی ہی زیادہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page