Al-Risala · August 1980 · page 44

دوسروں کا احتساب کرنے کے بجائے اپنا احتساب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴

یہ آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارے دین سے الگ ہو گیا ہے۔ اس نے ہماری جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ اس کی باتوں میں جادو ہے۔ وہ باپ بیٹے میں اور بھائی بھائی میں جدائی کر دیتا ہے۔ ہم کو ڈر ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہی تمہارے ساتھ بھی نہ کرے۔ تم اس سے بات نہ کرنا، نہ اس کا کلام سننا طفیل بن عمرو دوسی رحمہ کہتے ہیں کہ میں بیت اللہ میں گیا تو میں نے اپنے کان میں روئی ڈال لی کہ اس آدمی کی بات میرے کان میں نہ پڑے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ آخر میں بھی تو سمجھ رکھتا ہوں۔ مجھ سے کسی کلام کا حسن و قبح چھپ نہیں سکتا کیوں نہ میں اس کی بات سنوں۔ اگر معقول ہوگی تو مان لوں گا۔ اور اگر نامعقول ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ انھوں نے مجھ کو قرآن سنایا : فواللہ ما سمعت قولا قط احسن ولا امرا اعدل منہ (خدا کی قسم وہ کلام ایسا تھا کہ میں نے اتنا اچھا اور اتنا منصفانہ کلام کبھی نہیں سنا تھا۔ میں نے اسلام قبول کر لیا اور واپس آکر اپنی قوم میں تبلیغ کرنے لگا۔ مگر اس وقت تبلیغ سے صرف ایک شخص (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) اسلام لائے۔ میں دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور قوم کی سرکشی کا ذکر کر کے درخواست کی کہ آپ ان کے حق میں بددعا فرمائیں۔ آپ نے فرمایا اللهم اھد دوسا (خدایا قبیلہ دوس کو ہدایت دے) میں نے کہا اے خدا کے رسول ! میرا یہ نشانہ نہ تھا۔ آپ نے فرمایا : اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ ان کو اسلام کی دعوت دو اور نرمی کا معاملہ کرو: ان فيهم مثلک کثیرا (ابن عبد البر فی الاستیعاب) ان میں تمہارے جیسے بہت ہوں گے۔ اچھی بات سب سے بڑی دین ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما افاد المسلم اخاہ فائدة احسن من حدیث حسن بلغہ فبلغہ کوئی مسلمان اپنے بھائی کو اس سے اچھا فائدہ نہیں پہنچا سکتا کہ اس کو ایک اچھی بات ملی اور وہ اس نے اپنے بھائی کو پہنچا دی (جامع بیان العلم وفضلہ ۔ ۴۳)

دوسروں کا احتساب کرنے کے بجائے اپنا احتساب

حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول، میرے لئے کوئی ایسی چیز ٹھہرا دیجیے جس کے ساتھ میں جیوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمزہ، کسی جان کو زندگی دینا تمہیں زیادہ پسند ہے یا کسی جان کو مار ڈالنا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کی جان کو زندگی دینا مجھے زیادہ پسند ہے۔ آپ نے فرمایا : تمہارے اوپر صرف تمہاری اپنی ذمہ داری ہے۔ (قال الامام احمد جاء حمزہ بن عبد المطلب الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ اجعلنی علی شیئ اسیب بہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يا حمزہ نفس تحییھا احب الیک ام نفس تمیتھا قال بل نفس احییھا قال عليك بنفسك، تفسیر ابن کثیر جلد اول صفحه ۵۱۰)

کشادہ چہرہ کے ساتھ ملو اور نرم بات بولو ۔

ابن عمر رضی نے کہا: نیکی آسان ہے ۔ کشادہ رو اور نرم بات (برشیء ھین: وجه طلق و کلام لین)

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page