Al-Risala · August 1980 · page 43

اصلاح سے مایوس ہو کر بد دعا کرنا درست نہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۸۰، صفحہ ۴۳

میں پناہ لی۔ یہ باغ مکہ کے ایک سردار ربیعہ کے بیٹوں عتبہ شیبہ کا تھا۔ یہ دونوں اس وقت باغ میں تھے۔ انھوں آپ کی حالت دیکھ کر اپنے نصرانی غلام عداس کے ہاتھ کچھ انگور آپ کے پاس بھیجے ۔ آپ نے اس کو کھانا شروع کیا تو کہا ”بسم اللہ “۔ عداس کو یہ بات عجیب لگی نے آپ نے اس سے پوچھا ” تم کہاں کے رہنے والے ہو “ اس نے کہا ” نینوی کا “ آپ نے فرمایا: اس بھلے آدمی کے شہر کے جس کا نام یونس بن متی تھا۔ اس نے کہا ” آپ کو یونس بن متی کی خبر ہے ؟ آپ نے اس کو قرآن کا وہ حصہ سنایا جو حضرت یونس علیہ السلام کے بارہ میں آپ پر نازل ہوا تھا : وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا يحقن احد ابلغة رسالات الله تعالى (ابو نعيم في دلائل النبوة) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا پیغام پہنچاتے ان کو کبھی حقیر نہیں سمجھتے تھے :

بے آمیز سچائی لوگوں کے لئے ناقابلِ برداشت ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی اتری تو آپ گھبرائے ہوئے مکان واپس آئے۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے فرمایا : مجھے ایسا محسوس ہوا گو یا میری جان نکل جائے گی (لقد خشيت علی نفسی) خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے عزیز ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، وہ نصرانی ہو گئے تھے اور انبیار کی تاریخ اور قدیم آسمانی کتب کا مطالعہ کیا تھا۔ آپ کے حالات سن کر انھوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم اس امت کے نبی ہو، تمہارے پاس وہی فرشتہ آیا ہے جو موسیٰ کے پاس آیا تھا اور تمہاری قوم تم کو جھٹلائے گی، تم کو تکلیف دے گی، تم کو وطن سے نکالے گی ، تم سے جنگ کرے گی “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا : او مخرجی هم کیا وہ مجھے نکال دیں گے ) ورقة بن نوفل نے کہا ہاں، جو پیغام تم لے کر آئے ہو، یہ پیغام جب بھی کوئی لے کر آیا ہے تو لوگ اس کے دشمن ہو گئے ہیں، اور اس سے لڑائی کی ہے مدعو کی زبان میں کلام کرنا ابو البختری کہتے ہیں۔ ایران سے جنگ کے زمانہ میں ایک لشکر کے امیر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ لشکر والوں نے کہا : اے ابو عبد اللہ ! کیوں نہ ہم ان پر حملہ کر دیں یہ سلمان فارسی رض نے کہا: مجھے موقعہ دو کہ میں ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کر وں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ سلمان فارسی نے اہل قلعہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا: میں بھی تمہارے جیسا ایک فارسی ہوں، تم دیکھ رہے ہو کہ یہ عربی لوگ کس طرح میری اطاعت کر رہے ہیں۔ تم اسلام لے آؤ، جو ہمارے لیے ہوگا وہی تمہارے لئے ہوگا اور جو ہمارے لئے نہ ہوگا وہ تمہارے لیے بھی نہ ہوگا (ان اسلمتم فلکم مثل الذی لنا وعليكم مثل الذی علینا) اور اگر تم اپنے دین پر قائم رہنا چاہتے ہو تو جزیہ ادا کرو ورنہ اکرم اس سے بھی انکار کر وگے توہم تم سے جنگ کریں گے : قال ورطن اليهم بالفارسية (احمد) ابوالبختری کہتے ہیں کہ یہ بات انھوں نے فارسی زبان میں کہی۔

اصلاح سے مایوس ہو کر بد دعا کرنا درست نہیں

طفیل بن عمر و دوسی زیارت کعبہ کے لئے مکہ آئے۔ قریش کے کچھ لوگوں نے ان سے کہا۔ ” دیکھو تم ہمارے شہر میں آئے ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1980 All issues

Printed page