Al-Risala · January 1980 · page 4

جو خدا کو پالے اس نے سب کچھ پالیا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۴

جو خدا کو پالے اس نے سب کچھ پالیا

ایک شخص "سیب" کھائے۔ مگر سیب کے کھانے سے اس کو نہ کوئی مزہ ملے اور نہ وہ اس کے جسم میں داخل ہو کر اس کو طاقت دے تو کہا جائے گا کہ اس نے سیب نہیں کھایا، اس نے سیب کی شکل کی کوئی چیز چبائی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ خدا کا بھی ہے۔ خدا کو پانا وہی پانا ہے جو آدمی کے لئے مزہ بن جائے۔ جب "خدا" کو پا کر بھی آدمی مزہ سے خالی رہے تو کہنا چاہیے کہ اس نے خدا کو نہیں پایا۔ اس نے کوئی اور چیز پائی ہے اور غلطی سے اس کو خدا سمجھ رہا ہے۔ وہ مٹی کا سیب چبا رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں حقیقی سیب کھار ہا ہوں ۔

دنیا اپنی ابتدائی شکل میں صرف ایک قسم کا مادہ ہے۔ ساری دنیا ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ بالفاظ دیگر ساری دنیا بے روح مادہ ہے، اس بے روح مادہ کو خدا بے شمار صورتوں میں جلوہ گر کر رہا ہے۔ اس بے روح مادہ سے خدا کہیں روشنی پیدا کر رہا ہے اور کہیں حرارت، کہیں وہ اس بے روح مادہ کو ہریالی میں تبدیل کر رہا ہے اور کہیں پانی کی روانی میں، کہیں وہ اس بے روح مادہ کو رنگ کی صورت میں ظاہر کر رہا ہے اور کہیں مزہ اور خوش بو کی صورت میں۔ کہیں اس بے روح مادہ سے حرکت کے کرشمے ظاہر ہورہے ہیں اور کہیں کشش کے کرشمے۔ ایسے عجیب و غریب قدرت والے خدا کو پاناکیا ایک خشک عقیدہ کو پا نا نہیں ہو سکتا۔ ایسے خدا کو پا نا تو یہ ہے کہ آدمی کی روح ایک اتھاہ روشنی سے جگمگا اٹھے۔ وہ اس کے قلب کے لئے لطف لذت بن جائے۔ آدمی ایک عمدہ پھل کھاتا ہے تو وہ باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ایک شخص ایک لطیف نغمہ سنتا ہے تو وہ ہمہ تن وجد میں آ جاتا ہے۔ کسی کے یہاں ایک خوبصورت بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ پھر خدا جو ساری خوبیوں کا سر چشمہ ہے، اس کا پا نا کسی کو بے قرار نہیں کرے گا، وہ محض ایک بے کیف واقعہ بن کر رہ جائے گا۔

خدا کو پا نا یہ ہے کہ وہ ایک خوشبو ہو جس سے آدمی کا شامہ معطر ہو جائے۔ وہ ایک مزہ ہو جس سے اس کا ذائقہ لطف اندوز ہو۔ وہ ایک لطافت ہو جو اس کے لامسہ کو کیف سے بھر دے۔ وہ ایک حسن ہو جس کی بصارت کو ایک حیرت ناک نظارہ میں محو کر دے۔ وہ ایک ترنم ہو جو اس کے سامعہ کو ایسی لذت دے جس سے وہ کبھی سیر نہ ہو۔ ہم میں خدا نے روشنی پیدا کی، کیسے ممکن ہے کہ اس کے اندر روشنی نہ ہو۔ جس خدا نے مزہ پیدا کیا کیسے ممکن ہے کہ اس میں مزہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام روشنیوں سے زیادہ روشن ہے۔ وہ تمام مزوں سے زیادہ مزہ والا ہے۔ کسی کو خدا کی قربت ملنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص رنگت اور خوشبو کے ابدی چمنستان میں جا بسے، جیسے وہ ایک پیکر نور کے پڑوس میں پہنچ جائے ۔

خدا ساری حکمتوں کا خزانہ ہے، اس لئے خدا کو پا نا آدمی کو انتہائی باشعور بنا دیتا ہے۔ خدا سارے زمین و آسمان کا نور ہے، اس لئے خدا کو پا نا آدمی کی پوری شخصیت کو ربانی نور سے جگمگا دیتا ہے۔ خدا تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے، اس لئے خدا کو پا نا آدمی کو اتنا طاقت ور بنا دیتا ہے کہ کوئی سیلاب اس کو غرق نہ کر سکے اور کوئی طوفان اس کے درخت کو اکھاڑ نے والا ثابت نہ ہو۔ لوگ خدا سے بہت دور ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے قریب کھڑے ہوئے ہیں۔ لوگ خدا کے فیضان سے نا آشنا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے خدا کے فیضان سے اپنا کلیان بھر رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page