Al-Risala · January 1980 · page 3

کائمیت گواہی دیتی ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۳

مگر انسان کسی حد بندی کو قبول کرنے کے لیے تیار یں ہوتا۔ شہد کی مکھیاں حد درجہ نظم اور تقسیم کار کے ساتھ اپنی تعمیری سرگرمیاں انجام دیتی ہیں۔ مگر انسان نظم و ضبط کو توڑتا ہے۔ چیونٹیاں اور چڑیاں رزق کی فراہمی میں اپنی محنت پر بھروسہ کرتی ہیں۔ وہ کسی سے چھین جھپٹ نہیں کرتیں۔ مگر انسان دوسرے انسان کا استحصال کرتا ہے۔ کوئی شیریا بھیڑیا اپنی نوع کے جانور کو نہیں پھاڑتا۔ مگر انسان انسان کا خون اتا ہے۔ کوئی جانور حتی کہ سانپ بچھو بھی بلا وجہ کسی کے اوپر حملہ نہیں کرتے۔ وہ حملہ کرتے ہیں تو صرف اپنے بچاؤ کے لیے۔ مگر انسان دوسرے انسانوں کے اوپر یک طرفہ جارحانہ کارروائیاں کرتا ہے۔ تمام جانور بقدر ضرورت کھاتے ہیں، بقدر ضرورت جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں اور بقدر ضرورت گھر بناتے ہیں۔ مگر انسان ہر چیز میں اسراف اور بے راہ روی اور غیر ضروری تکلفات کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ تمام جانور صرف اپنے دائرہ کار میں اپنے کو مصروف رکھتے ہیں۔ مگر انسان اپنے دائرہ عمل کو چھوڑ کر دوسرے کے دائرہ میں مداخلت کرتا ہے۔ ایک چرواہا بہ کی پچاس بکریاں جنگل میں چرتے ہوئے ہزاروں بھیڑ بکریوں سے مل جائیں اور اس کے بعد ان کا چرواہا بہ ایک مقام پر کھڑے ہو کر آواز دے تو اس کی تمام بکریاں نکل نکل کر اس کے پاس آجاتی ہیں۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ اس کو خدا اور رسول کی طرف بلایا جائے تو وہ سننے اور سمجھنے کے بعد بھی اس کی طرف نہیں دوڑتا۔

انسان ساری کائنات کا اس سے بھی کہیں زیادہ چھوٹا حصہ ہے جتنا پوری زمین کے مقابلہ میں سرسوں کا ایک دانہ۔ پھر انسان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ کیسے درست ہو سکتا ہے جو وسیع تر کائنات کا راستہ ہے۔ اگر اتنی عظیم الشان دلیل کے باوجود آدمی اپنے لیے الگ راستہ کا انتخاب کرتا ہے تو موجودہ کائنات میں وہ اپنے کو بے استحقاق ثابت کر رہا ہے۔ اس کے بعد اس کا انجام صرف یہی ہو سکتا ہے کہ اس کو کائنات میں بے جگہ کر دیا جائے۔ کائنات کی تمام چیزیں اس کے ساتھ مساعدت کرنے سے انکار کر دیں۔ تمام کائناتی نعمتوں کو اس سے چھین کر اس کو ابدی محرومی میں ڈال دیا جائے۔ آدمی جس کائنات کا ہم سفر بننے کے لیے تیار نہیں، اس کو کیا حق ہے کہ اس کائنات کی چیزوں سے فائدہ اٹھائے۔ اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ انجام ہونا چاہئے کہ کائنات کو اس کی تمام نعمتوں کے ساتھ صرف ان انسانوں کو دے دیا جائے جو اس کے ہم سفر بنے ، جنہوں نے اپنے خالق و مالک کی تابعداری اسی طرح کی جس طرح ساری کائنات کر رہی تھی۔ اس کے سوا وہ انسان جنھوں نے بغاوت اور خودرائی کا طریقہ اختیار کیا، ان کو نہ اس دنیا کی روشنی میں حصہ دار بننے کا حق ہے اور نہ اس کی ہوا اور پانی میں۔ نہ وہ اس دنیا میں نہ اپنے لیے مکان بنانے کا حق رکھتے اور نہ کھانے اور آرام کرنے کا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ کائنات اپنے جنبی امکانات کے ساتھ صرف پہلے گروہ کے حصہ میں آئے اور دوسرے گروہ کو یہاں کی تمام بہترین چیزوں سے محروم کر کے چھوڑ دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page