تو بہ نے طاقت ور بنا دیا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴
تو بہ نے طاقت ور بنا دیا
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جادو گر جب فرعون کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے فرعون سے کہا: اگر ہم موسیٰ کے مقابلہ میں غالب رہے تو ہم کو اس کا انعام تو ضرور ملے گا۔ فرعون نے کہا ہاں۔ اس کے بعد جادو گروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی مانند نظر آنے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا۔ آپ کا عصا اڑدہا بن کر گھوما تو اس کا اثر یہ ہوا کہ جادوگروں کی ہر لکڑی لکڑی اور ہررسی رسی ہو کر رہ گئی۔ جادو گر سمجھ گئے کہ موسیٰ نے جو چیز دکھائی ہے وہ جادو نہیں بلکہ خدائی معجزہ ہے۔ ان کا سینہ حق کے لئے کھل گیا۔ اور انھوں نے اسی وقت ایمان قبول کر لیا۔ فرعون غضب ناک ہو کر بولا: تم لوگ موسیٰ کے مومن بن گئے قبل اس کے کہ میں تم کو اس کی اجازت دوں۔ یہ تم لوگوں کی خفیہ سازش ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پا کیں مخالفت سمتوں سے کٹواؤں گا اور پھر تم سب لوگوں کو سولی پر چڑھا دوں گا (اعراف) جادو گروں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ خدا کی روشن نشانیوں کے مقابلہ میں ہم تم کو ترجیح دیں۔ تم جو کچھ کرنا چاہو کر لو۔ تم صرف اسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتے ہو اور اللہ زیادہ اچھا ہے اور وہ باقی رہنے والا ہے (طه)
وہی جادو گر ابھی فرعون کے سامنے خوشامدی باتیں کر رہے تھے اور اس کے انعام اور اعزاز کے طالب تھے وہی تھوڑی دیر بعد اتنے دلیر اور بلند حوصلہ ہو گئے کہ فرعون کی انھیں کوئی پروانہ رہی۔ حتیٰ کہ فرعون کی طرف سے سخت ترین سزا کی دھمکی بھی انھیں مرعوب نہ کر سکی۔ وہ کیا چیز تھی جس نے جادوگروں کو اچانک پستی سے بلندی اور بزدلی سے بہادری تک پہنچا دیا۔ وہ ایمان کی طاقت تھی۔ انھوں نے انسانوں سے گزر کر خدا کو پا لیا تھا، پھر ان کو انسانوں کا ڈر کیوں ہوتا۔
شہر کے مسلم محلہ کو تخریب کاروں کے ایک غول نے گھیر لیا۔ مسلمان اپنے گھروں سے نکلے تو تخریب کاروں نے پتھر پھینکنے شروع کئے۔ مسلمانوں نے بھی اس کے جواب میں پتھر پھینکے۔ تخریب کاروں کو جب پتھراؤ سے کامیابی ہوتی نظر نہ آئی تو انھوں نے بندوقوں سے فائر کئے جس سے کچھ مسلمان زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد مسلمان بھاگے اور اپنے گھروں میں داخل ہو گئے۔ اب تخریب کاروں کا حوصلہ بڑھا۔ وہ آگے بڑھ کر محلہ میں گھس گئے اور مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں میں آگ لگانا شروع کر دیا۔
یہ بڑا نازک موقع تھا۔ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کریں۔ اس کے بعد محلہ کے ایک " دادا " کو اللہ نے ہمت دی اور اس نے مسئلہ کو حل کر دیا۔ اس شخص میں اور کوئی برائی نہ تھی۔ البتہ وہ شراب پیتا تھا۔ وہ اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues