کعبہ سے زیادہ قابل احترام
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳
حرمتک وللمومن اعظم حرمۃ عند اللہ منک، مختصر تفسیر ابن کثیر، جلد ثالث، صفحہ ۳۶۶) یہ بات جو حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہی یہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ اسی کو صحابی رسول نے اپنی زبان میں دہرایا۔
کعبہ ایک خاموش یادگار ہے۔ اس سے کسی آدمی کے وہ معاملات نہیں پڑتے جو زندہ انسانوں سے پڑتے ہیں۔ اس لئے کعبہ کا احترام کرنے کے لئے آدمی آسانی سے راضی ہو جاتا ہے۔ اور انسان کا احترام کرنے پر راضی نہیں بولتا۔ مگر انسان کے تقویٰ کا اصل امتحان کعبہ کی سطح پر نہیں بلکہ انسان کی سطح پر ہو رہا ہے۔ جب ایک شخص کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف ایک برا گمان گزرتا ہے مگر وہ محض گمان کی بنیاد پر اس کے بارے میں نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ وسعت ظرف سے کام لیتے ہوئے وہ اس کی تحقیق سے بھی بچتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی کی جو بات اللہ نے چھپا رکھی ہے وہ اس کو چھپا ہی رہنے دے تو وہ ایک ایسے عمل کا ثبوت دیتا ہے جو کسی مقدس دیوار کا احترام کرنے سے بھی زیادہ بڑا عمل ہے۔ جب اس کو کسی کے اوپر غصہ آتا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اُس کی عزت پر حملہ کرنے لگے، وہ اس کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرے تو وہ ایک ایسا عمل کرتا ہے جو مقدس یادگاروں کا ادب کرنے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ جب ایک آدمی دیکھتا ہے کہ اس کا بھائی کسی پہلو سے ترقی کر گیا ہے اس کے باوجود وہ اس سے حسد نہیں کرتا، وہ اس کا برا نہیں چاہتا تو یہ خدا کے نزدیک اتنا بڑا عمل ہوتا ہے جو اس کے لئے کعبہ کے احترام سے بھی زیادہ بڑے اجر کا باعث بن جاتا ہے۔
دنیا میں ہر آدمی ایک درمیانی مقام پر کھڑا ہوا ہے۔ ایک طرف اس کا خدا ہے جس سے وہ آخرت میں ملنے والا ہے۔ دوسری طرف وہ انسان ہیں جن کے درمیان وہ آج اپنے آپ کو پاتا ہے۔ آدمی کو دوسرے انسانوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا ہے جو وہ خدا سے اپنے بارے میں چاہتا ہے۔ اگر آدمی چاہتا ہے کہ خدا اس کے بھیدوں کو کھول کر قیامت میں اس کو رسوا نہ کرے تو اس کو دنیا میں یہ کرنا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے بھید کے پیچھے نہ پڑے۔ وہ اگر خدا کے بندوں کے بھید کو چھپائے گا تو خدا بھی اس کے بھید کو چھپائے گا۔ اور اگر اس نے دوسروں کو رسوا کیا تو خدا اس کو یہ سزا دے گا کہ قیامت کے دن اس کو رسوا کرکے اپنی رحمتوں سے اسے دور کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کی عزت بچانا اپنی عزت بچانا ہے، دوسرے کے اوپر وار کرنا خود اپنے اوپر وار کرنا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اس پر عمل کرنے کے لئے راضی کر سکیں۔
سب سے بڑا عمل وہ ہے جس کے لئے آدمی کو اپنے نفس سے لڑنا پڑے، جس کے لئے مصلحتوں کے نقصان کو برداشت کرنا ہو، جس کی قیمت یہ دینی پڑے کہ آدمی کی عزت مقبولیت خطرہ میں پڑ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues