Al-Risala · September 1980 · page 10

ڈر اس کے لئے علاج بن گیا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰

ڈر اس کے لئے علاج بن گیا

ڈاکٹر عبوہالجلیل فریدی (۱۸۷۴۔ ۱۹۱۳) لکھنو میں مطب کرتے تھے۔ انھوں نے علاج معالجے کے فن میں بڑی شہرت حاصل کی۔ ایک مرتبہ ایک مریض ان کے یہاں لایا گیا۔ مریض اتنا موٹا تھا کہ چل نہیں سکتا تھا۔ چھ آدمی اس کو چار پائی پر لٹا کر مطب میں لائے تھے۔ موٹاپے کی وجہ سے اس کا یہ حال تھا کہ وہ معمول کے مطابق سانس نہیں لے سکتا تھا سانس لیتے ہوئے اس کے منہ سے خراٹے جیسی آواز نکلتی تھی۔ چلنا پھرنا بہت پہلے سے بند تھا۔ اب معمولی حرکت بھی اس کے لئے دشوار تھی۔ حتی کہ وہ کروٹ بھی نہیں بدل سکتا تھا۔ ظاہر حالات کے مطابق وہ زندگی کے آخری مرحلہ میں تھا۔ کچھ لوگ پہلے ہو کر مرتے ہیں۔ اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ موت اس کی طرف موٹاپے کی صورت میں آرہی ہے۔ ظاہر ہے کہ مریض مطب کے اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر فریدی کو اسے دیکھنے کے لئے باہر آنا پڑا۔ وہ باہر آئے تو مریض کو دیکھتے ہی انھوں نے زور زور سے کہنا شروع کیا۔ "اس کو فوراً لے جاؤ۔ اب اس آدمی میں کیا رہ گیا ہے اس کو مشکل سے دو مہینے اور زندہ رہنا ہے۔ اس میں دوا کیا اثر کرے گی۔ اس کو یہاں سے لے جاؤ اور اس کے لئے آگے کا انتظام کرو۔ " مریض کے متعلقین جو ساتھ آئے تھے انھوں نے بہت خوشامد کی کہ ڈاکٹر صاحب آپ کم از کم اس کا معائنہ تو کر لیں۔ مگر د کسی طرح اس کو ہاتھ لگانے پر تیار نہ ہوئے۔ حتیٰ کہ فیس جو پہلے لی جا چکی تھی وہ بھی اسے لوٹا دی۔ وہ لوگ مایوس ہو کر چلے گئے۔

اس واقعہ کے تقریباً چھ مہینے بعد ایک شخص ڈاکٹر فریدی کے مطب میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی عمر ۶۰۔ ۵۷ سال کے درمیان ہے۔ فربہ جسم مگر تندرست اور مطمئن معلوم ہوتا ہے۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ وہ مریض نہیں ہے بلکہ صرف ملاقات کے لئے آیا ہے۔ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے طنز کے انداز میں کہا: ڈاکٹر صاحب میں وہی شخص ہوں جس کو آپ نے دو مہینے میں مر جانے کی پیشین گوئی کی تھی۔ جس کے دوبارہ اچھے ہونے سے آپ اتنا مایوس تھے کہ آپ نے اس کا معائنہ کئے بغیر اس کو اپنے مطب سے لوٹا دیا تھا۔

بظاہر ڈاکٹر صاحب کا جواب یہ ہونا چاہئے تھا کہ معاف کرنا۔ مجھ سے غلطی ہوئی ۔ وہ میرا ایک اندازہ تھا اور ڈاکٹروں کا اندازہ کبھی صحیح ہوتا ہے اور کبھی غلط۔ مگر ہاں ایسا نہیں ہوا۔ ڈاکٹر صاحب آدمی کی رپورٹ سنتے ہی ہنس پڑے اور کہا: اس لئے تو تم اچھے ہو گئے کہ میں نے دیکھے بغیر تم کو لوٹا دیا تھا۔ جب دو مہینے تک ہر روز تم کو اپنی زندگی کا ایک دن کم ہوتا نظر آیا تو تم ڈر کی وجہ سے دبلے ہونے لگے۔ یہی تمھارا علاج تھا۔ اب میری وہ فیس لاؤ جو میں نے اس وقت اس غرض سے واپس کر دی تھی کہ تمھارا ڈر اور زیادہ ہو جائے ۔ " ڈاکٹر صاحب کی زبان سے یہ بات سن کر آدمی بہت حیران ہوا۔ اس نے ڈاکٹر صاحب کے پیر چھو کر اس بات کا اقرار کیا کہ واقعہ ایسا ہی ہے۔ کسی دوا کے استعمال کے بغیر وہ محض ڈر اور گھبراہٹ کی وجہ سے دبلا ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس کا غیر ضروری موٹاپا ختم ہو گیا اور وہ تندرست ہو کر اپنا کام کرنے لگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page