پرستش کی قسمیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۱
پرستش کی قسمیں
پرستش کسی صورت کا نام نہیں بلکہ پرستش ایک حقیقت کا نام ہے۔ کسی چیز سے سب سے زیادہ لگاؤ، کسی چیز کی برتری کا اتنا غلبہ کہ اس کے مقابلہ میں دوسری تمام چیزیں غیراہم بن جائیں، یہی پرستش ہے اور اس اعتبار سے آدمی جس چیز کو اپنی زندگی میں شامل کرے وہ اس کی پرستش کر رہا ہے ۔ خواہ وہ زبان سے کسی دوسری چیز کے پرستار ہونے کا اقرار کرتا ہو۔
جب آدمی ایک شخص کو یہ مقام دیتا ہے کہ اس کے آگے اس کی گردن جھک جائے تو وہ اس کی پرستش کرتا ہے۔ جب آدمی اپنے ایک فائدہ کو یہ اہمیت دیتا ہے کہ اس کی خاطر وہ دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کر دے تو وہ اس کی پرستش کرتا ہے۔ جب آدمی مال کو اس قابل سمجھتا ہے کہ وہ اس سے اپنی امیدیں اور تمنائیں وابستہ کرے تو وہ اس کی پرستش کرتا ہے۔ اسی طرح جب آدمی ایک رواج کو یہ حیثیت دیتا ہے کہ ہر دوسرے تقاضے سے بے پروا ہو کر وہ اس کو پورا کرے تو وہ رواج کی پرستش کرتا ہے۔ جب آدمی کسی کے خلاف ابھرنے والے نفسانی جذبات سے اتنا مغلوب ہوتا ہے کہ ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر کے اس کو اپنے انتقامی جذبات کا نشانہ بناتا ہے تو وہ اپنے نفس کی پرستش کرتا ہے۔ جب آدمی معیار زندگی کے مسئلہ سے اتنا مرعوب ہوتا ہے کہ اپنے وقت اور کمائی کو تمام تر اپنے دنیوی معیار کو بڑھانے میں لگا دیتا ہے تو وہ معیار زندگی کی پرستش کرتا ہے۔ جب آدمی جاہ و مرتبہ کا اتنا حریص ہوتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دے کر اپنے کو اونچا اٹھانا چاہتا ہے تو وہ جاہ کی پرستش کرتا ہے۔ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ہر اعتبار سے وہ صرف ایک خدا کی پرستش کرے، پرستش میں اس کے ساتھ کسی بھی دوسری چیز کو شریک نہ کرے۔ اس کا لگاؤ، اس کا احترام ، اس کی وابستگی ، اس کا جھکنا ، سب کچھ سب سے زیادہ صرف اللہ کے لئے ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues